Showing posts with label ابرار عمر. Show all posts
Showing posts with label ابرار عمر. Show all posts

Monday, 24 August 2020

تمام غم ہے سوال غم ہے جواب غم

تمام غم ہے

سوال غم ہے
جواب غم ہے
ہزار سالوں میں جو مکمل ہوئی
محبت کی خون رنگی کتاب غم ہے
تمہارے لب پہ جو مسکراہٹ ہے

اب کبھی ناں محبتیں ہوں گی

اب کبھی ناں محبتیں ہوں گی
ہر کسی سے شکایتیں ہوں گی
جن کو چاہا نہیں گیا یارو
ایسی کتنی ہی صورتیں ہوں گی
مجھ کو دیکھا ہوا نے تیرے ساتھ
اب قیامت کی بارشیں ہوں گی

Sunday, 23 August 2020

محبت جب نئے محور پہ آئے گی

محبت جب نئے محور پہ آئے گی

محبت جب نئے محور پہ آۓ گی
تو اپنے آپ کو ڈھونڈو گے تم بھی پھر
کسی روتی ہوئی تصویر کے اُجڑے نظارے میں
کنارِ شام، ساگر کے کنارے پر
زمیں میں دفن ہوتے ریشمی سورج کی حالت کے اشارے میں

تمہیں میری محبت کی قسم مجھ کو بتا دو نا

اوک میں سویا ہوا سال

تمہیں میری محبت کی قسم مجھ کو بتا دو نا
تمہارے پہلے پہلے ریشمی جذبوں کو
چھونے والا ساحر کون تھا
تمہارا استعارا کون تھا
تمہارے شہر میں مہکا ہوا کوئی اجنبی سورج
تمہارے حزن میں پلتا ہوا کوئی نرمگیں لمحہ

Saturday, 22 August 2020

سورج طلوع ہونے کے ساتھ

About To Resign

سورج طلوع ہونے کے ساتھ ہی
میرے دکھوں کا ایک طویل سلسلہ بھی
طلوع ہو جاتا ہے
جو سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی
غروب ہو جاتا ہے
اور پھر

بارش میں اور وہ

مشکل کا مسافر

بارش میں اور وہ
بارش میں اور تم
ایک منظر کی خوبصورتی عذاب بن چکی ہے
اور میں اس میں قید ہو چکا ہوں
دوسرے منظر کی خوبصورتی عذاب بن جائے گی
اور میں اس میں قید ہو جاؤں گا

کچھ خواب سمندر پار گئے

Smoke

کچھ خواب سمندر پار گئے
کچھ جذبے جیت کے ہار گئے
کچھ رستے منزل کھانے لگے
کچھ پھول نظر برسانے لگے
کچھ صحرا بارش کو ترسے
کچھ جنگل نوحے گانے لگے

تم خبر سناتے ہو یوں پیار جتاتے ہو

New Year Card

اک سال کے آخر میں
اک سال کی آمد کی
تم خبر سناتے ہو
یوں پیار جتاتے ہو
وہ سال کب آئے گا

Saturday, 2 November 2013

منزل کے انتظار میں مارے گئے ہیں ہم

منزل کے انتظار میں مارے گئے ہیں ہم
اک دشتِ بے کنار میں مارے گئے ہیں ہم
مرنے کے کتنے خوب مقامات تھے مگر
شوقِ وصالِ یار میں مارے گئے ہیں ہم
تفسیرِ کائنات کی گرہیں نہ کھل سکیں
سوچوں کے خلفشار میں مارے گئے ہیں ہم

اپنے جذبات کے دھاگے میں پروئے رکھا

اپنے جذبات کے دھاگے میں پروئے رکھا
چاند کو رات کے دھاگے میں پروئے رکھا
میرے دل نے تری تحریر کا سجرا گجرا
سوچ کے ہاتھ کے دھاگے میں پروئے رکھا
جیت کے وقت کا اک شوخ چمکتا موتی
میں نے ہر مات کے دھاگے میں پروئے رکھا