منزل کے انتظار میں مارے گئے ہیں ہم
اک دشتِ بے کنار میں مارے گئے ہیں ہم
مرنے کے کتنے خوب مقامات تھے مگر
شوقِ وصالِ یار میں مارے گئے ہیں ہم
تفسیرِ کائنات کی گرہیں نہ کھل سکیں
سوچوں کے خلفشار میں مارے گئے ہیں ہم
اپنے جذبات کے دھاگے میں پروئے رکھا
چاند کو رات کے دھاگے میں پروئے رکھا
میرے دل نے تری تحریر کا سجرا گجرا
سوچ کے ہاتھ کے دھاگے میں پروئے رکھا
جیت کے وقت کا اک شوخ چمکتا موتی
میں نے ہر مات کے دھاگے میں پروئے رکھا