Monday, 24 August 2020

تمام غم ہے سوال غم ہے جواب غم

تمام غم ہے

سوال غم ہے
جواب غم ہے
ہزار سالوں میں جو مکمل ہوئی
محبت کی خون رنگی کتاب غم ہے
تمہارے لب پہ جو مسکراہٹ ہے
میرے لب پہ جو آشنائی کی منزلوں کا سفر لکھا ہے
یہ سارا غم ہے
کسی کے تن کی سندرتا غم ہے
کسی نظر کی گنجلتا غم ہے
محبتوں کے سمندروں میں
اترتی خوشرنگ سیڑھیوں پر
یہ لڑکیوں کی قطار غم ہے
کفن میں لپٹی دلہن کی آنکھوں میں
آنسوؤں کا شمار غم ہے
وہ لڑکیاں، لڑکے، عورتیں، مرد غم ہی غم ہیں
جو میری نظموں کے جنگلوں کے
بے سمت رستوں پہ کھو گئے ہیں
وہ سالخوردہ حسین عورت بھی غم کا چہرہ بنی ہوئی ہے
جسے محبت نے روشنی کی نوید دی تھی
وہ جس نے وعدوں سے اپنی منزل کشید کی تھی
وہ گاؤں کی کچی پکی راہیں
وہ میری ماں کی نحیف بانہیں بھی غم ہی غم تھیں
کہ میرا بچپن تو غم کے لمبے سفر کی
غمگین ابتدا تھی
جوانی غم کی کہانی بن کر
کچھ ایسے لفظوں میں ڈھل گئی ہے
کہ غم کی تشہیر ہو گئی ہے
ابھی ابھی یہ جو شوخ ساۓ
حسین لمحوں کو چن رہے تھے
یہ غم کی تاریخ بن رہے تھے
یہ فلسفہ عقل و عشق و عرفاں
مجاز، اعجاز اور حقیقت بھی سارے غم ہیں
میں ایک شاعر
میں ایک ساحر
میں آگہی کے عذاب میں گم
سفر کا انجام جانتا ہوں
میں مانتا ہوں
کہ ہر خوشی کا امام غم ہے
تمام غم ہے

ابرار عمر

No comments:

Post a Comment