اب کبھی ناں محبتیں ہوں گی
ہر کسی سے شکایتیں ہوں گی
جن کو چاہا نہیں گیا یارو
ایسی کتنی ہی صورتیں ہوں گی
مجھ کو دیکھا ہوا نے تیرے ساتھ
اس کو بھی چاند سے محبت ہے
اس کے دل میں بھی حسرتیں ہوں گی
زندگی کے کٹھن سفر میں عمر
اس کو میری ضرورتیں ہوں گی
ابرار عمر
No comments:
Post a Comment