کشمیر کی چیخ
کھلی فضا میں
خنک ہوا میں
بڑی گھٹن ہے
بڑی چبھن ہے
زمیں ہے اک بے سلاخ زنداں
خموشیاں راج ہو گئی ہیں
صدائیں تاراج ہو گئی ہیں
جنم جنم سے لہو کی پیاسی
ستم کی داسی
ہزارہا گولیاں فضا میں
الم کی بپھری ہوئی ہوا میں
قدم قدم سنسنا رہی ہیں
قضا کا جادو جگا رہی ہیں
بلا کا کہرام کو بہ کو ہے
فضا میں بارود کی سی بو ہے
ضمیر و احساس صید کر دو
مجھے بھی زنداں میں قید کر دو
تابش الوری
No comments:
Post a Comment