Monday, 24 August 2020

کشمیر کی چیخ بلا کا کہرام کو بہ کو ہے

کشمیر کی چیخ

کھلی فضا میں
خنک ہوا میں
بڑی گھٹن ہے
بڑی چبھن ہے
زمیں ہے اک بے سلاخ زنداں
فلک کی چادر بھی قہر ساماں
خموشیاں راج ہو گئی ہیں
صدائیں تاراج ہو گئی ہیں
جنم جنم سے لہو کی پیاسی
ستم کی داسی
ہزارہا گولیاں فضا میں
الم کی بپھری ہوئی ہوا میں
قدم قدم سنسنا رہی ہیں
قضا کا جادو جگا رہی ہیں
بلا کا کہرام کو بہ کو ہے
فضا میں بارود کی سی بو ہے
ضمیر و احساس صید کر دو
مجھے بھی زنداں میں قید کر دو

تابش الوری

No comments:

Post a Comment