Showing posts with label عبدالطیف شوق. Show all posts
Showing posts with label عبدالطیف شوق. Show all posts

Wednesday, 16 March 2022

لغزش ساقیٔ میخانہ خدا خیر کرے

 لغزش ساقیٔ مے خانہ خدا خیر کرے

پھر نہ ٹوٹے کوئی پیمانہ خدا خیر کرے

ہر گھڑی جلوۂ جانانہ خدا خیر کرے

تیرا دل ہے کہ صنم خانہ خدا خیر کرے

لوگ کر ڈالیں نہ خود اپنے جگر کے ٹکڑے

بے نقاب ان کا چلے آنا خدا خیر کرے

Monday, 14 February 2022

کعبہ ہے کبھی تو کبھی بت خانہ بنا ہے

 کعبہ ہے کبھی تو کبھی بت خانہ بنا ہے

یہ دل بھی عجب چیز ہے کیا کیا نہ بنا ہے

جس روز سے دل آپ کا دیوانہ بنا ہے

ایک لفظ بھی نکلا ہے تو افسانہ بنا ہے

یہ آج کا دن حشر کا دن تو نہیں یا رب

اپنا تھا جو کل تک وہی بے گانہ بنا ہے

Wednesday, 19 January 2022

دل دیا وحشت لیا اور خود کو رسوا کر لیا

 دل دیا وحشت لیا اور خود کو رسوا کر لیا

مختصر سی زندگی میں میں نے کیا کیا کر لیا

دل کی خاطر کفر بھی اس نے گوارا کر لیا

ایک پتھر خود تراشا خود ہی سجدہ کر لیا

آپ کی چاہت کا ملنا جان لوں گا مفت ہے

جان دے کر بھی اگر میں نے یہ سودا کر لیا

Tuesday, 18 January 2022

بت یہاں ملتے نہیں ہیں یا خدا ملتا نہیں

 بت یہاں ملتے نہیں ہیں یا خدا ملتا نہیں

عزم مستحکم تو ہو دنیا میں کیا ملتا نہیں

ہم سفیران جنوں یوں ہم سے آگے بڑھ گئے

قافلہ کیا ہے غبار قافلہ ملتا نہیں

اپنی صورت دیکھنا ہو اپنے دل میں دیکھیئے

دل سا دنیا میں کوئی بھی آئنہ ملتا نہیں

Saturday, 15 May 2021

روٹھے ہیں ہم سے دوست ہمارے کہاں کہاں

 روٹھے ہیں ہم سے دوست ہمارے کہاں کہاں

ٹوٹے ہیں زندگی کے سہارے کہاں کہاں

دنیا کی بازگشت میں اپنی ہی ہے صدا

ایسے میں کوئی تجھ کو پکارے کہاں کہاں

کعبے میں تھا سکوں نہ کلیسا میں چین تھا

تجھ سے بچھڑ کے دن یہ گزارے کہاں کہاں