لغزش ساقیٔ مے خانہ خدا خیر کرے
پھر نہ ٹوٹے کوئی پیمانہ خدا خیر کرے
ہر گھڑی جلوۂ جانانہ خدا خیر کرے
تیرا دل ہے کہ صنم خانہ خدا خیر کرے
لوگ کر ڈالیں نہ خود اپنے جگر کے ٹکڑے
بے نقاب ان کا چلے آنا خدا خیر کرے
لغزش ساقیٔ مے خانہ خدا خیر کرے
پھر نہ ٹوٹے کوئی پیمانہ خدا خیر کرے
ہر گھڑی جلوۂ جانانہ خدا خیر کرے
تیرا دل ہے کہ صنم خانہ خدا خیر کرے
لوگ کر ڈالیں نہ خود اپنے جگر کے ٹکڑے
بے نقاب ان کا چلے آنا خدا خیر کرے
کعبہ ہے کبھی تو کبھی بت خانہ بنا ہے
یہ دل بھی عجب چیز ہے کیا کیا نہ بنا ہے
جس روز سے دل آپ کا دیوانہ بنا ہے
ایک لفظ بھی نکلا ہے تو افسانہ بنا ہے
یہ آج کا دن حشر کا دن تو نہیں یا رب
اپنا تھا جو کل تک وہی بے گانہ بنا ہے
دل دیا وحشت لیا اور خود کو رسوا کر لیا
مختصر سی زندگی میں میں نے کیا کیا کر لیا
دل کی خاطر کفر بھی اس نے گوارا کر لیا
ایک پتھر خود تراشا خود ہی سجدہ کر لیا
آپ کی چاہت کا ملنا جان لوں گا مفت ہے
جان دے کر بھی اگر میں نے یہ سودا کر لیا
بت یہاں ملتے نہیں ہیں یا خدا ملتا نہیں
عزم مستحکم تو ہو دنیا میں کیا ملتا نہیں
ہم سفیران جنوں یوں ہم سے آگے بڑھ گئے
قافلہ کیا ہے غبار قافلہ ملتا نہیں
اپنی صورت دیکھنا ہو اپنے دل میں دیکھیئے
دل سا دنیا میں کوئی بھی آئنہ ملتا نہیں
روٹھے ہیں ہم سے دوست ہمارے کہاں کہاں
ٹوٹے ہیں زندگی کے سہارے کہاں کہاں
دنیا کی بازگشت میں اپنی ہی ہے صدا
ایسے میں کوئی تجھ کو پکارے کہاں کہاں
کعبے میں تھا سکوں نہ کلیسا میں چین تھا
تجھ سے بچھڑ کے دن یہ گزارے کہاں کہاں