Wednesday, 19 January 2022

دل دیا وحشت لیا اور خود کو رسوا کر لیا

 دل دیا وحشت لیا اور خود کو رسوا کر لیا

مختصر سی زندگی میں میں نے کیا کیا کر لیا

دل کی خاطر کفر بھی اس نے گوارا کر لیا

ایک پتھر خود تراشا خود ہی سجدہ کر لیا

آپ کی چاہت کا ملنا جان لوں گا مفت ہے

جان دے کر بھی اگر میں نے یہ سودا کر لیا

بال و پر اپنے سلامت ڈر اندھیروں کا نہیں

چار تنکے جب بھی پھونکے ہیں اجالا کر لیا

درد بخشا چین چھینا دل کے ٹکڑے کر دئیے

ہائے کس ظالم پہ میں نے بھی بھروسہ کر لیا

شوق جب تک سانس ہے تب تک ہے امید حیات

کیوں ابھی سے آپ نے دل اپنا چھوٹا کر لیا 


عبدالطیف شوق

No comments:

Post a Comment