Showing posts with label ساجد رحیم. Show all posts
Showing posts with label ساجد رحیم. Show all posts

Wednesday, 6 July 2022

بس یہی سوچ کے خوش باش رہا جانے لگا

 بس یہی سوچ کے خوش باش رہا جانے لگا

تجھ کو افسوس تو ہو، ہاتھ سے کیا جانے لگا 

میں نے اک شعر تِرے نام کِیا ہے جب سے

میرا ہر شعر توجہ سے سُنا جانے لگا 

لوگ اک دور میں دیواریں چُنا کرتے تھے

پھر تو دیوار میں لوگوں کو چُنا جانے لگا

Saturday, 16 April 2022

ختم ہوتا سفر نہیں لگتا اب دعا میں اثر نہیں لگتا

 ختم ہوتا سفر نہیں لگتا 

اب دعا میں اثر نہیں لگتا 

اس کی آنکھوں کو دیکھ رکھا ہے 

اب سمندر سے ڈر نہیں لگتا 

قافلہ جس طرح بھٹکتا ہے 

راہبر، راہبر نہیں لگتا 

Monday, 12 July 2021

کس قدر مختصر اداسی ہے

 کس قدر مختصر اُداسی ہے

یعنی بس عمر بھر اداسی ہے 

میں اسے جانتا ہوں بچپن سے 

اس قدر ناموَر اداسی ہے 

آ گیا امتحاں پرندے کا 

کہہ رہا ہے شجر؛ اداسی ہے 

Wednesday, 23 June 2021

بہت سندر غضب اچھا لگے گا

 بہت سندر غضب اچھا لگے گا 

تُو جو پہنے گا سب اچھا لگے گا 

ہمیں عادت ہے پتھر چُومنے کی 

ہمیں کب کوئی لب اچھا لگے گا 

ہمیں اس شہر سے جانا پڑے گا 

ہمیں یہ شہر جب اچھا لگے گا 

Monday, 3 May 2021

فراق، درد، پیار، دکھ

 فراق، درد، پیار، دُکھ 

ہے ایک دل، ہزار دکھ 

مِلے اسے ہزار بار 

مِلے ہزار بار دکھ 

بڑے ہی دکھ کی بات ہے 

کہ دے گئے ہیں یار دکھ 

Wednesday, 30 September 2020

بچھڑنا یار سے آسان بھی نہیں ہوتا

 بچھڑنا یار سے آسان بھی نہیں ہوتا

پھر ایسے جرم کا تاوان بھی نہیں ہوتا

مصیبتوں میں اسے کام آتے دیکھا ہے

وہ شخص جس پہ کوئی مان بھی نہیں ہوتا

ہمارا راستہ کیوں روکتے ہیں سب رہزن

ہمارے پاس تو سامان بھی نہیں ہوتا

Monday, 28 September 2020

دلوں سے خوف نکالا گیا تھا بچپن میں

 دلوں سے خوف نکالا گیا تھا بچپن میں

ہمیں ہوا میں اچھالا گیا تھا بچپن میں

میں اس لیے بھی سمجھتا ہوں ہجرتوں کا دکھ

مجھے بھی گھر سے نکالا گیا تھا بچپن میں

وہ اب کسی سے سنبھالے نہیں سنبھلتا ہے

جسے زیادہ سنبھالا گیا تھا بچپن میں

Friday, 25 September 2020

چشم تر یوں بھگو گئی مجھ کو

 چشمِ تر یوں بھگو گئی مجھ کو

میں کہ میلا تھا، دھو گئی مجھ کو

یوں بھی عادت تھی رتجگوں کی مجھے

پھر محبت بھی ہو گئی مجھ کو

موت کس بات سے ڈراتی ہے

زندگی مار تو گئی مجھ کو

Monday, 21 September 2020

مرے نیلے لبوں پر لب دھرو گے کیا

مِرے نیلے لبوں پر لب دھرو گے کیا

کوئی ایسا نہیں کرتا، کرو گے کیا؟

سنا ہے لوگ ڈر سے بھی لپٹتے ہیں 

سنو بجلی کڑکتی ہے، ڈرو گے کیا 

مجھے پیغام دو آنکھوں نے بھیجا ہے 

مِرے پاگل! مجھے پاگل کرو گے کیا 

Saturday, 19 September 2020

مری دہائی سنے بات پر توجہ دے

 مِری دہائی سنے، بات پر توجہ دے

کسے پڑی ہے خرافات پر توجہ دے 

نہ کر موازنہ اس عشق کا گزشتہ سے 

پرانی چھوڑ، نئی گھات پر توجہ دے 

تُو ناچتی ہوئی کٹھ پتلیوں سے بیر نہ رکھ 

انہیں نچاتے ہوئے ہاتھ پر توجہ دے 

Friday, 18 September 2020

تیرے غصے سے اندازہ ہوا ہے

 تیرے غصے سے اندازہ ہوا ہے

تُو اندر سے بہت سہما ہوا ہے

جسے دیکھو چلا آتا ہے ملنے

مجھے لوگوں نے کیا سمجھا ہوا ہے

یہی کہہ کر میں سمجھاتا ہوں دل کو

چلو جو بھی ہوا، اچھا ہوا ہے

یہ نظمیں بھی ستارہ ہیں

 خیالوں کے فلک پر

ایک مدت تک 

ابھرتی، ڈوبتی، یہ جگمگاتی

روشنی کرتی

بکھرتی، ٹوٹتی اک دن  

اچانک ایک کاغذ پر اترتی ہیں

Tuesday, 15 September 2020

بے جا تکلفات میں کچھ بھی نہیں بچا

بے جا تکلفات میں کچھ بھی نہیں بچا
حد درجہ احتیاط میں کچھ بھی نہیں بچا 
اب تم ہمارے ہاتھ کو آئے ہو تھامنے 
اب تو ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں بچا 
زندہ ہوں ایک خواب اور اک آس کے طفیل 
ورنہ تو اس حیات میں کچھ بھی نہیں بچا 

چشم تر یوں بھگو گئی مجھ کو

چشم تر یوں بھگو گئی مجھ کو
میں کہ میلا تھا، دھو گئی مجھ کو 
یوں بھی عادت تھی رتجگوں کی مجھے
پھر محبت بھی ہو گئی مجھ کو 
موت کس بات سے ڈراتی ہے 
زندگی مار تو گئی مجھ کو 

Monday, 14 September 2020

یہ جو سلجھا سلجھا کلام ہے ترے نام ہے

وہ جو الجھے الجھے خیال تھے، کوئی جال تھے 
یہ جو سلجھا سلجھا کلام ہے، تِرے نام ہے 
وہ گماں کے جتنے پڑاؤ تھے، مِرے چاؤ تھے 
یہ یقیں جو مست خرام ہے، تِرے نام ہے 
وہ جو تشنگی سر آب تھی، تِرا خواب تھی 
یہ جو موج موج کا جام ہے، تِرے نام ہے 

کی محبت، اور محبت بھی بہت

کی محبت، اور محبت بھی بہت
ہے مگر یہ بات پہلے کی بہت 
شاخ سے گرتا ہے جب پتہ کوئی 
یاد کرتا ہے تمہیں کوئی بہت 
اہل دل، اہل نظر کی خیر ہو 
لگ رہی ہو آج تم اچھی بہت