بس یہی سوچ کے خوش باش رہا جانے لگا
تجھ کو افسوس تو ہو، ہاتھ سے کیا جانے لگا
میں نے اک شعر تِرے نام کِیا ہے جب سے
میرا ہر شعر توجہ سے سُنا جانے لگا
لوگ اک دور میں دیواریں چُنا کرتے تھے
پھر تو دیوار میں لوگوں کو چُنا جانے لگا
بس یہی سوچ کے خوش باش رہا جانے لگا
تجھ کو افسوس تو ہو، ہاتھ سے کیا جانے لگا
میں نے اک شعر تِرے نام کِیا ہے جب سے
میرا ہر شعر توجہ سے سُنا جانے لگا
لوگ اک دور میں دیواریں چُنا کرتے تھے
پھر تو دیوار میں لوگوں کو چُنا جانے لگا
ختم ہوتا سفر نہیں لگتا
اب دعا میں اثر نہیں لگتا
اس کی آنکھوں کو دیکھ رکھا ہے
اب سمندر سے ڈر نہیں لگتا
قافلہ جس طرح بھٹکتا ہے
راہبر، راہبر نہیں لگتا
کس قدر مختصر اُداسی ہے
یعنی بس عمر بھر اداسی ہے
میں اسے جانتا ہوں بچپن سے
اس قدر ناموَر اداسی ہے
آ گیا امتحاں پرندے کا
کہہ رہا ہے شجر؛ اداسی ہے
بہت سندر غضب اچھا لگے گا
تُو جو پہنے گا سب اچھا لگے گا
ہمیں عادت ہے پتھر چُومنے کی
ہمیں کب کوئی لب اچھا لگے گا
ہمیں اس شہر سے جانا پڑے گا
ہمیں یہ شہر جب اچھا لگے گا
فراق، درد، پیار، دُکھ
ہے ایک دل، ہزار دکھ
مِلے اسے ہزار بار
مِلے ہزار بار دکھ
بڑے ہی دکھ کی بات ہے
کہ دے گئے ہیں یار دکھ
بچھڑنا یار سے آسان بھی نہیں ہوتا
پھر ایسے جرم کا تاوان بھی نہیں ہوتا
مصیبتوں میں اسے کام آتے دیکھا ہے
وہ شخص جس پہ کوئی مان بھی نہیں ہوتا
ہمارا راستہ کیوں روکتے ہیں سب رہزن
ہمارے پاس تو سامان بھی نہیں ہوتا
دلوں سے خوف نکالا گیا تھا بچپن میں
ہمیں ہوا میں اچھالا گیا تھا بچپن میں
میں اس لیے بھی سمجھتا ہوں ہجرتوں کا دکھ
مجھے بھی گھر سے نکالا گیا تھا بچپن میں
وہ اب کسی سے سنبھالے نہیں سنبھلتا ہے
جسے زیادہ سنبھالا گیا تھا بچپن میں
چشمِ تر یوں بھگو گئی مجھ کو
میں کہ میلا تھا، دھو گئی مجھ کو
یوں بھی عادت تھی رتجگوں کی مجھے
پھر محبت بھی ہو گئی مجھ کو
موت کس بات سے ڈراتی ہے
زندگی مار تو گئی مجھ کو
مِرے نیلے لبوں پر لب دھرو گے کیا
کوئی ایسا نہیں کرتا، کرو گے کیا؟
سنا ہے لوگ ڈر سے بھی لپٹتے ہیں
سنو بجلی کڑکتی ہے، ڈرو گے کیا
مجھے پیغام دو آنکھوں نے بھیجا ہے
مِرے پاگل! مجھے پاگل کرو گے کیا
مِری دہائی سنے، بات پر توجہ دے
کسے پڑی ہے خرافات پر توجہ دے
نہ کر موازنہ اس عشق کا گزشتہ سے
پرانی چھوڑ، نئی گھات پر توجہ دے
تُو ناچتی ہوئی کٹھ پتلیوں سے بیر نہ رکھ
انہیں نچاتے ہوئے ہاتھ پر توجہ دے
تیرے غصے سے اندازہ ہوا ہے
تُو اندر سے بہت سہما ہوا ہے
جسے دیکھو چلا آتا ہے ملنے
مجھے لوگوں نے کیا سمجھا ہوا ہے
یہی کہہ کر میں سمجھاتا ہوں دل کو
چلو جو بھی ہوا، اچھا ہوا ہے
خیالوں کے فلک پر
ایک مدت تک
ابھرتی، ڈوبتی، یہ جگمگاتی
روشنی کرتی
بکھرتی، ٹوٹتی اک دن
اچانک ایک کاغذ پر اترتی ہیں