Friday, 18 September 2020

یہ نظمیں بھی ستارہ ہیں

 خیالوں کے فلک پر

ایک مدت تک 

ابھرتی، ڈوبتی، یہ جگمگاتی

روشنی کرتی

بکھرتی، ٹوٹتی اک دن  

اچانک ایک کاغذ پر اترتی ہیں

سنورتی ہیں 

نکھرتی ہیں 

کئی تیرہ شبوں کا یہ سہارا ہیں

یہ نظمیں بھی ستارہ ہیں 


ساجد رحیم

No comments:

Post a Comment