Friday, 18 September 2020

دیکھ رہا ہوں ٹوٹے کنگن

 نقصان


دیکھ رہا ہوں ٹوٹے کنگن

سوچ رہا ہوں کس نے توڑے

توڑ دیئے تو پھینکے کیوں ہیں

پھینک دیئے تو اب رو رو ہلکان ہوا ہے

ایسا کیا نقصان ہوا ہے؟

دیکھ رہا ہوں الجھی مالا

سوچ رہا ہوں کس نے چھوڑی

پھول تو تازہ ہیں پھر ڈوری کس نے توڑی

کیا پھولوں سے چھلنی یہ دامان ہوا ہے

ایسا کیا نقصان ہوا ہے؟

دیکھ رہا ہوں سہمے سپنے

سوچ رہا ہوں کس کا ڈر ہے

ڈر تو ہے پر ڈر کا سہرا کس کے سر ہے

جو سپنوں کا برپا اک طوفان ہوا ہے

ایسا کیا نقصان ہوا ہے؟

دیکھ رہا ہوں سوکھے پتے

سوچ رہا ہوں پت جھڑ کا دکھ

ایک شبابی حدت کے موسم کا آخر

اور بڑھاپا جیسے وردِ جان ہوا ہے

ایسا کیا نقصان ہوا ہے؟

دیکھ رہا ہوں زخم پرانے

سوچ رہا ہوں کون کریدے

اور اجیرن کر لے اپنے شام سویرے

رستے خوں میں شامل میرا مان ہوا ہے

ایسا کیا نقصان ہوا ہے؟

دیکھ رہا ہوں ڈوبی کشتی

سوچ رہا ہوں ڈوبی کیوں ہے

ڈوب گئی تو لہروں سے اب لڑتی کیوں ہے

دیکھنے سے اس کو دل کیوں بے جان ہوا ہے

ایسا کیا نقصان ہوا ہے؟

دیکھ رہا ہوں دل کے آنسو

سوچ رہا ہوں کیا کیا غم ہیں

ہونٹوں پر مسکان ہے، لیکن آنکھیں نم ہیں

دل میں خوشیوں کا اتنا فقدان ہوا ہے

ایسا کیا نقصان ہوا ہے؟

دیکھ رہا ہوں تپتا صحرا

سوچ رہا ہوں پانی ڈھونڈوں

مردہ دل میں حالت اک وجدانی ڈھونڈوں

کس کو بادل، سبزہ، پانی دان ہوا ہے؟

ایسا کیا نقصان ہوا ہے؟

دیکھ رہا ہوں لمبی غزلیں

سوچ رہا ہوں حاصل کیا ہے

طغیانی میں کشتی ہے، پر ساحل کیا ہے

لکھنے والے، دکھ کا کچھ سامان ہوا ہے؟

ایسا کیا نقصان ہوا ہے؟

دیکھ رہا ہوں شعلے دل کے

سوچ رہا ہوں آتش کیسی

مجھ گھائل پہ زخموں کی یہ بارش کیسی

جل جل یہ دل کیوں اک آتش دان ہوا ہے

ایسا کیا نقصان ہوا ہے؟

دیکھ رہا ہوں وہ بے چارہ

سوچ رہا ہوں دکھ کا مارا

جانے کب سے دیکھ رہا ہے تیرا رستہ

پھر رستہ بھی کس حد کا ویران ہوا ہے

ایسا کیا نقصان ہوا ہے؟

دیکھ رہا ہوں وحشی پن ہے

سوچ میں میری خالی پن ہے

میرے دکھ میں شامل میرا کُل تن من ہے

باقی یہ دکھ اب کھل کر اعلان ہوا ہے

ایسا ہی نقصان ہوا ہے

ایسا ہی نقصان ہوا ہے


وجاہت باقی

No comments:

Post a Comment