Friday, 18 September 2020

سہانی شاموں کے سرد لہجے

 پرانے زخم


سہانی شاموں کے سرد لہجے

مروتوں کی عناد میں ہیں

پرانے زخموں کے ادھ کھلے منہ

دہانے شاید فساد کے ہیں

کسی سے کہنا، کسی کی سننا

کسی کے رستے سے کانٹے چننا

یہ عادتیں ہیں، اذیتوں کی

یہ سلوٹیں ہیں، ہزیمتوں کی

اذیتوں سے کیا جو سودا

تو سرد شاموں نے آ کے پوچھا

ہمیں بھلایا؟ ہمیں مٹایا؟

یا اپنے حصے کا درد بھایا

ارے او جھلے

ارے او کملے

یہ جن اداؤں کا جال تم سے ملا رہا ہے

یہ چپ کے پردے میں اک مصیبت بلا رہا ہے

یہ سرد لمحے

یہ سرد لہجے

تمہاری حسرت کے جاودانی حصار کے ہیں

یہ سارے نغمے، تمہاری چاہت کے دار کے ہیں

سنو کہ یہ سب کہیں تو جا کے ملے گا مجھ سے

یہ سارا موسم، مروتوں میں جلے گا مجھ سے

یہ سارا موسم، جو نفرتوں کا سکوت توڑے

جو راستوں کا جمود توڑے

تمہارے پہلو کی سلطنت کا ہے تاج اوڑھے

مگر یہ سارے چِھلے ہوئے دل

نہ جانے کس سرد آہ کے

انجماد کے ہیں

پرانے زخموں کے ادھ کھلے منہ

دہانے شاید فساد کے ہیں

دہانے شاید فساد کے ہیں


وجاہت باقی

No comments:

Post a Comment