شورشِ رفتگاں سے اٹھے گا
اب دھواں آسماں سے،اٹھے گا
شرح کر دے گا، نفسِ مضموں کی
ایک نقطہ بیاں سے اٹھے گا
دیکھنا، آئے گا خیال اپنا
ایک دن دل یہاں سے اٹھے گا
شورِ محشر سے جو نہیں اٹھتا
میری آہ و فغاں سے اٹھے گا
کوئی کب تک ہے اس کے پہلو میں
کوئی، کب تک وہاں سے اٹھے گا
تُو جو اٹھے گا میری بالیں سے
دل بھی دونوں جہاں سے اٹھے گا
راکھ ہو جائے گی یہ خشتِ وہم
اور تیقّن گماں سے اٹھے گا
بام و در کانپ کانپ اٹھیں گے
جب کوئی آستاں سے اٹھے گا
شائستہ سحر
No comments:
Post a Comment