Friday, 18 September 2020

خود سے ملنے کا یہ بہانہ ہے

 خود سے ملنے کا یہ بہانہ ہے

تجھ کو جانا، تو خود کو جانا ہے

کیسے تفریق اس میں ہو پائے

یہ محبت ہے، یہ زمانہ ہے

آدمی فطرتا کمینہ ہے

آدمی بن کے میں نے جانا ہے

شاعری کر کے دیکھ لی ہم نے

اب ہمیں رزق بھی کمانا ہے

آئینہ ضد پہ آ گیا شاید

جو نہیں دیکھنا، دکھانا ہے

آدمیت سے باز آتا نہیں

وہ جسے آدمی بنانا ہے

مسندِ عشق سے اتارو اسے

اس کو واپس زمیں پہ لانا ہے

اس محبت کی خیر ہو صاحب

یہ مِرا آخری ٹھکانا ہے

جو مجھے تم سے بے خبر کر دیں

ایسے لوگوں میں آنا جانا ہے

کٹ گئی عمر سب اندھیروں میں

اب مجھے روشنی میں آنا ہے

جس میں تیرے سوا نہیں کوئی

میرا دل وہ نگار خانہ ہے

زندگی ایسا گیت ہے جس کو

درد کے گیت پر ہی جانا ہے

راہ سے آشنا جو تھا، بھٹکا

راستہ یعنی یہ پرانا ہے

آگ صحرا میں جو لگا دے سحر

پھول ایسا مجھے کھلانا ہے


شائستہ سحر

No comments:

Post a Comment