اس کے باغ بدن کو دیکھتے ہیں
اک چمن در چمن کو دیکھتے ہیں
پھول پتے ہیں شاخساروں پر
ہم گلاب اور سمن کو دیکھتے ہیں
نقرئی لوح پر نقوشِ بہار
خالقِ کُل کے فن کو دیکھتے ہیں
اس کے باغ بدن کو دیکھتے ہیں
اک چمن در چمن کو دیکھتے ہیں
پھول پتے ہیں شاخساروں پر
ہم گلاب اور سمن کو دیکھتے ہیں
نقرئی لوح پر نقوشِ بہار
خالقِ کُل کے فن کو دیکھتے ہیں
مختصر نظم
ایک چھوٹی سی کہانی
اتنی لمبی داستاں کیوں ہو گئی تھی
اتنی چھوٹی سی زمیں تھی
پھر یہ رشک آسماں کیوں ہو گئی تھی
وسعتِ دل میں کوئی آہٹ سی تھی
وہ بے نشاں کیوں ہو گئی تھی
وہ سانحہ ہوا تھا کہ بس دل دہل گئے
اک شب میں سارے شہر کے چہرے بدل گئے
نیرنگئ نظر پسِ آئینہ خوب تھی
باہر نکل کے دیکھا تو منظر بدل گئے
مٹی میں ماہتاب کی خوشبو کا بھید تھا
کس جستجو میں ہم لبِ بام ازل گئے
ہمارے شہر میں آنے کی صورت چاہتی ہیں
ہوائیں باریابی کی اجازت چاہتی ہیں
پرندوں سے در و دیوار خالی ہو گئے ہیں
مِری آنکھیں نگر کو خوب صورت چاہتی ہیں
لکھے بھی جاؤ لوح خاک پر نقش اداسی
کہ آتی ساعتیں حرفِ شہادت چاہتی ہیں
خواہشِ دل سے ماورا کر دے
اپنا ہی رمز آشنا کر دے
میرے ہاتھوں میں تتلیاں بھر دے
میرے ہاتھوں کو خوشنما کر دے
میرے احوال کو تکلّم دے
میرے لفظوں کو لب کشا کر دے