Showing posts with label ذوالفقار تابش. Show all posts
Showing posts with label ذوالفقار تابش. Show all posts

Sunday, 25 July 2021

اس کے باغ بدن کو دیکھتے ہیں

 اس کے باغ بدن کو دیکھتے ہیں

اک چمن در چمن کو دیکھتے ہیں

پھول پتے ہیں شاخساروں پر

ہم گلاب اور سمن کو دیکھتے ہیں

نقرئی لوح پر نقوشِ بہار

خالقِ کُل کے فن کو دیکھتے ہیں

Wednesday, 21 July 2021

ایک چھوٹی سی کہانی اتنی لمبی داستاں کیوں ہو گئی

 مختصر نظم


ایک چھوٹی سی کہانی

اتنی لمبی داستاں کیوں ہو گئی تھی

اتنی چھوٹی سی زمیں تھی

پھر یہ رشک آسماں کیوں ہو گئی تھی

وسعتِ دل میں کوئی آہٹ سی تھی

وہ بے نشاں کیوں ہو گئی تھی

Tuesday, 20 July 2021

وہ سانحہ ہوا تھا کہ بس دل دہل گئے

 وہ سانحہ ہوا تھا کہ بس دل دہل گئے

اک شب میں سارے شہر کے چہرے بدل گئے

نیرنگئ نظر پسِ آئینہ خوب تھی

باہر نکل کے دیکھا تو منظر بدل گئے

مٹی میں ماہتاب کی خوشبو کا بھید تھا

کس جستجو میں ہم لبِ بام ازل گئے

Thursday, 7 January 2021

ہمارے شہر میں آنے کی صورت چاہتی ہیں

 ہمارے شہر میں آنے کی صورت چاہتی ہیں

ہوائیں باریابی کی اجازت چاہتی ہیں

پرندوں سے در و دیوار خالی ہو گئے ہیں

مِری آنکھیں نگر کو خوب صورت چاہتی ہیں

لکھے بھی جاؤ لوح خاک پر نقش اداسی

کہ آتی ساعتیں حرفِ شہادت چاہتی ہیں

Tuesday, 5 January 2021

خواہش دل سے ماورا کر دے

 خواہشِ دل سے ماورا کر دے

اپنا ہی رمز آشنا کر دے 

میرے ہاتھوں میں تتلیاں بھر دے

میرے ہاتھوں کو خوشنما کر دے

میرے احوال کو تکلّم دے 

میرے لفظوں کو لب کشا کر دے