Wednesday, 21 July 2021

ایک چھوٹی سی کہانی اتنی لمبی داستاں کیوں ہو گئی

 مختصر نظم


ایک چھوٹی سی کہانی

اتنی لمبی داستاں کیوں ہو گئی تھی

اتنی چھوٹی سی زمیں تھی

پھر یہ رشک آسماں کیوں ہو گئی تھی

وسعتِ دل میں کوئی آہٹ سی تھی

وہ بے نشاں کیوں ہو گئی تھی

نیلگوں میں اک ستارہ جگمگاتا تھا

مگر بے نور کیسے ہو گیا تھا

پاس ہی تو تیرا گھر تھا

وہ اچانک دور کیسے ہو گیا تھا


ذوالفقار تابش

No comments:

Post a Comment