مختصر نظم
ایک چھوٹی سی کہانی
اتنی لمبی داستاں کیوں ہو گئی تھی
اتنی چھوٹی سی زمیں تھی
پھر یہ رشک آسماں کیوں ہو گئی تھی
وسعتِ دل میں کوئی آہٹ سی تھی
وہ بے نشاں کیوں ہو گئی تھی
نیلگوں میں اک ستارہ جگمگاتا تھا
مگر بے نور کیسے ہو گیا تھا
پاس ہی تو تیرا گھر تھا
وہ اچانک دور کیسے ہو گیا تھا
ذوالفقار تابش
No comments:
Post a Comment