Wednesday, 21 July 2021

وفا کی فصل پھر بونے چلی ہوں

وفا کی فصل پھر بونے چلی ہوں

میں کیا پاؤں گی، بس کھونے چلی ہوں

جنوں کی حد سے بھی آگے قدم ہے

نہ جانے اور کیا ہونے چلی ہوں

یہی نیکی مجھے زندہ رکھے گی

کہ بوجھ اوروں کا میں ڈھونے چلی ہوں

رہی ہوں مضطرب خود کو بھی پا کر

پھر اپنے آپ کو کھونے چلی ہوں

اُتر آئی ہے یاد آنکھوں میں تیری

میں تیرے واسطے سونے چلی ہوں

بہت ہے بارشِ آلام رومی

حفاظت کو، کسی کونے چلی ہوں


رومانہ رومی

No comments:

Post a Comment