Wednesday, 21 July 2021

بارش بہت ہے وہ ٹین کی چھت کو چھیدتی

 سیدھی بارش میں کھڑا آدمی


بارش بہت ہے

وہ ٹین کی چھت کو چھیدتی

دماغ کے گودے میں

اور دل کے پردوں میں

چھید کرتی

پیروں کی سوکھی ہڈیاں

چھید رہی ہے

میں چاہتا ہوں

چھت پہ جا کر لیٹ جاؤں

اور سوراخوں کو

چھلنی وجود کے بوجھ سے

بند کر دوں

مگر

سیدھی بارش کی میخوں نے

پاؤں

بہتے فرش میں گاڑ دئیے ہیں


حسین عابد

No comments:

Post a Comment