سیدھی بارش میں کھڑا آدمی
بارش بہت ہے
وہ ٹین کی چھت کو چھیدتی
دماغ کے گودے میں
اور دل کے پردوں میں
چھید کرتی
پیروں کی سوکھی ہڈیاں
چھید رہی ہے
میں چاہتا ہوں
چھت پہ جا کر لیٹ جاؤں
اور سوراخوں کو
چھلنی وجود کے بوجھ سے
بند کر دوں
مگر
سیدھی بارش کی میخوں نے
پاؤں
بہتے فرش میں گاڑ دئیے ہیں
حسین عابد
No comments:
Post a Comment