Wednesday, 21 July 2021

شعلے بھڑک رہے ہیں عناد و فساد کے

 یہ آنکھ منتظر ہے کسی انقلاب کی


شعلے بھڑک رہے ہیں

عناد و فساد کے

اس دورِ آگہی میں

تو جینا عذاب ہے

مکر و فریب کا یہاں ہے

جال سا بچھا

سچ کا یہاں تو رہنا ہی

مُطلق حرام ہے

تازہ ہوا بھی کیسے ملے؟

نسلِ نو کو جب

آب و ہوا میں پھیلی بو

آلودگی سی ہو

منظر یہ سارے دیکھ کے

آنکھیں برس پڑیں

ہے جان کی اماں نہ ہی

محفوظ مال و زر

یارب دعا ہے رات کی

کالی گھٹا ہٹے

ہو جائیں بارشیں یہاں

انوارِ سحر کی

صورت نظر میں آئے

کسی چارہ گر کی اب

یہ آنکھ منتظر ہے

کسی انقلاب کی


سبیلہ انعام صدیقی

No comments:

Post a Comment