Wednesday, 21 July 2021

ہجر میں اتنا خسارہ تو نہیں ہو سکتا

 ہجر میں اتنا خسارہ تو نہیں ہو سکتا

ایک ہی عشق دوبارہ تو نہیں ہو سکتا

چند لوگوں کی محبت بھی غنیمت ہے میاں

شہر کا شہر ہمارا تو نہیں ہو سکتا

کب تلک قید رکھوں آنکھ میں بینائی کو

صرف خوابوں سے گزارا تو نہیں ہو سکتا

رات کو جھیل کے بیٹھا ہوں تو دن نکلا ہے

اب میں سورج سے ستارہ تو نہیں ہو سکتا

دل کی بینائی کو بھی ساتھ ملا لے گوہر

آنکھ سے سارا نظارہ تو نہیں ہو سکتا


افضل گوہر

No comments:

Post a Comment