صبر کریں گے جب تک عشق نہیں ہوتا
دیکھیں اس کو کب تک عشق نہیں ہوتا
شرکت کچھ تو لازم ہے مطلوب کی بھی
طالب کے مطلب تک عشق نہیں ہوتا
اس کے بعد اماوس بھی تو پڑتی ہے
پورے چاند کی شب تک عشق نہیں ہوتا
صبر کریں گے جب تک عشق نہیں ہوتا
دیکھیں اس کو کب تک عشق نہیں ہوتا
شرکت کچھ تو لازم ہے مطلوب کی بھی
طالب کے مطلب تک عشق نہیں ہوتا
اس کے بعد اماوس بھی تو پڑتی ہے
پورے چاند کی شب تک عشق نہیں ہوتا
ہر مسلک ہر مکتب عشق نہیں ہوتا
سب لوگوں کا مذہب عشق نہیں ہوتا
جسم جہاں ہو وہ سب عشق نہیں ہوتا
ہم سے ایسا بے ڈھب عشق نہیں ہوتا
ان کو میرے بھیگے تکیے دکھلا دو
جو یہ کہتے ہیں اب عشق نہیں ہوتا
کس احتیاط سے سپنے سجانے پڑتے ہیں
یہ سنگ ریزے پلک سے اٹھانے پڑتے ہیں
بہت سے درد تو ہم بانٹ بھی نہیں سکتے
بہت سے بوجھ اکیلے اٹھانے پڑتے ہیں
یہ بات اس سے پتا کر جو عشق جانتا ہو
پلوں کی راہ میں کتنے زمانہ پڑتے ہیں
زخموں کی دکانوں پہ خریدار بھی آئے
بازار ہے تو رونقِ بازار بھی آئے
شانوں پہ یہاں سر کی جگہ کاسے لگے ہیں
گر سر کی بحالی ہو تو دستار بھی آئے
لو حق کے لیے اپنی جڑیں چھوڑ دیں ہم نے
اب گھر سے نکل کر کوئی انصار بھی آئے
جب لے کے ہتھیلی پر ہم جان نکلتے ہیں
ظلمت میں اجالوں کے امکان نکلتے ہیں
پھر لے کے حساب دل پچھتانا پڑا اس کو
کچھ اس پہ ہمارے ہی احسان نکلتے ہیں
یہ شہر رہا ہو گا شائستہ مزاجوں کا
اس شہر کے ملبے سے گلدان نکلتے ہیں
پھر انتشار اسی انہماک سے آیا
کسی کا بھولا تصور چھپاک سے آیا
بلایا ہم نے تو آیا نہ منتوں سے بھی
جو خود کو کام پڑا تو جھپاک سے آیا
وہ آسمانوں سے اتریں تو ہم بتائیں انہیں
بلندیوں کا ہنر ہم کو خاک سے آیا
جلا کے آنکھیں سیاہ شب کو کھنگالنا ہے
اسی اندھیرے سے ہم کو سورج نکالنا ہے
جو باقی چیزیں ہیں وہ تو میں سب سنبھال لوں گا
تمہیں یہ کرنا ہے؛ صرف مجھ کو سنبھالنا ہے
شکست جس کا نصیب ہو گی کچھ اس کا سوچو
تمہارا کیا ہے؟ تمہیں تو سِکہ اچھالنا ہے