Showing posts with label معین شاداب. Show all posts
Showing posts with label معین شاداب. Show all posts

Wednesday, 15 November 2023

صبر کریں گے جب تک عشق نہیں ہوتا

 صبر کریں گے جب تک عشق نہیں ہوتا

دیکھیں اس کو کب تک عشق نہیں ہوتا

شرکت کچھ تو لازم ہے مطلوب کی بھی

طالب کے مطلب تک عشق نہیں ہوتا

اس کے بعد اماوس بھی تو پڑتی ہے

پورے چاند کی شب تک عشق نہیں ہوتا

Wednesday, 6 April 2022

ہر مسلک ہر مکتب عشق نہیں ہوتا

 ہر مسلک ہر مکتب عشق نہیں ہوتا

سب لوگوں کا مذہب عشق نہیں ہوتا

جسم جہاں ہو وہ سب عشق نہیں ہوتا

ہم سے ایسا بے ڈھب عشق نہیں ہوتا

ان کو میرے بھیگے تکیے دکھلا دو

جو یہ کہتے ہیں اب عشق نہیں ہوتا

Saturday, 1 January 2022

کس احتیاط سے سپنے سجانے پڑتے ہیں

 کس احتیاط سے سپنے سجانے پڑتے ہیں

یہ سنگ ریزے پلک سے اٹھانے پڑتے ہیں

بہت سے درد تو ہم بانٹ بھی نہیں سکتے

بہت سے بوجھ اکیلے اٹھانے پڑتے ہیں

یہ بات اس سے پتا کر جو عشق جانتا ہو

پلوں کی راہ میں کتنے زمانہ پڑتے ہیں

Sunday, 12 December 2021

زخموں کی دکانوں پہ خریدار بھی آئے

 زخموں کی دکانوں پہ خریدار بھی آئے

بازار ہے تو رونقِ بازار بھی آئے

شانوں پہ یہاں سر کی جگہ کاسے لگے ہیں

گر سر کی بحالی ہو تو دستار بھی آئے

لو حق کے لیے اپنی جڑیں چھوڑ دیں ہم نے

اب گھر سے نکل کر کوئی انصار بھی آئے

Thursday, 9 December 2021

جب لے کے ہتھیلی پر ہم جان نکلتے ہیں

 جب لے کے ہتھیلی پر ہم جان نکلتے ہیں

ظلمت میں اجالوں کے امکان نکلتے ہیں

پھر لے کے حساب دل پچھتانا پڑا اس کو

کچھ اس پہ ہمارے ہی احسان نکلتے ہیں

یہ شہر رہا ہو گا شائستہ مزاجوں کا

اس شہر کے ملبے سے گلدان نکلتے ہیں

Saturday, 5 December 2020

پھر انتشار اسی انہماک سے آیا

 پھر انتشار اسی انہماک سے آیا

کسی کا بھولا تصور چھپاک سے آیا

بلایا ہم نے تو آیا نہ منتوں سے بھی

جو خود کو کام پڑا تو جھپاک سے آیا

وہ آسمانوں سے اتریں تو ہم بتائیں انہیں

بلندیوں کا ہنر ہم کو خاک سے آیا

جلا کے آنکھیں سیاہ شب کو کھنگالنا ہے

 جلا کے آنکھیں سیاہ شب کو کھنگالنا ہے

اسی اندھیرے سے ہم کو سورج نکالنا ہے

جو باقی چیزیں ہیں وہ تو میں سب سنبھال لوں گا

تمہیں یہ کرنا ہے؛ صرف مجھ کو سنبھالنا ہے

شکست جس کا نصیب ہو گی کچھ اس کا سوچو

تمہارا کیا ہے؟ تمہیں تو سِکہ اچھالنا ہے