Wednesday, 6 April 2022

ہر مسلک ہر مکتب عشق نہیں ہوتا

 ہر مسلک ہر مکتب عشق نہیں ہوتا

سب لوگوں کا مذہب عشق نہیں ہوتا

جسم جہاں ہو وہ سب عشق نہیں ہوتا

ہم سے ایسا بے ڈھب عشق نہیں ہوتا

ان کو میرے بھیگے تکیے دکھلا دو

جو یہ کہتے ہیں اب عشق نہیں ہوتا

ہمدردی کو ہمدردی سمجھا جائے

ہر جذبے کا مطلب عشق نہیں ہوتا

سردی اور گرمی کے عذر نہیں چلتے

موسم دیکھ کے صاحب عشق نہیں ہوتا


معین شاداب

No comments:

Post a Comment