Wednesday, 6 April 2022

کوئی کہاں جانتا ہے روح کی جنس کیا ہے

 کوئی کہاں جانتا ہے

روح کی جنس کیا ہے

وجود سے اس کا سمبندھ کہاں تک ہے

بٹوارہ گھر کا ہو یا جسم میں، ٹراما نہیں جاتا

پھر علاج تکلیف ٹالتا ہے، مرض ختم نہیں کرتا

تقسیم کا دیمک کئی نسلیں کھا لیتا ہے

ٹکڑوں میں بٹا فرد، مکمل انسان کھا جاتا ہے

خدارا! مجھے کسی لیبل والے ڈبے میں مت رکھو

یہ میں نہیں، ایک پردہ ہے جو بس اُٹھنے والا ہے


فرح دیبا اکرم

No comments:

Post a Comment