کوئی کہاں جانتا ہے
روح کی جنس کیا ہے
وجود سے اس کا سمبندھ کہاں تک ہے
بٹوارہ گھر کا ہو یا جسم میں، ٹراما نہیں جاتا
پھر علاج تکلیف ٹالتا ہے، مرض ختم نہیں کرتا
تقسیم کا دیمک کئی نسلیں کھا لیتا ہے
ٹکڑوں میں بٹا فرد، مکمل انسان کھا جاتا ہے
خدارا! مجھے کسی لیبل والے ڈبے میں مت رکھو
یہ میں نہیں، ایک پردہ ہے جو بس اُٹھنے والا ہے
فرح دیبا اکرم
No comments:
Post a Comment