Wednesday, 6 April 2022

راشد اس فکر میں اب آنکھ نہیں لگنے کی

 راشد اس فکر میں اب آنکھ نہیں لگنے کی

میری سسی کو ہے عادت بے خبر سونے کی

میں بڑا تنگ ہوں آنکھوں کی حساسیت سے

یار! ان کو تو کوئی بات ملے رونے کی

سوچ دیمک ہے، بدن چاٹتی رہتی ہے میاں

کوئی صورت بھی نکالا کرو خوش رہنے کی

تجھ کو درکار ہے بپھرا ہوا دریا اور میں

دشت ہوں یار! تِری پیاس نہیں بجھنے کی


راشد ملک

No comments:

Post a Comment