حُسن کیا کیا مُسکرایا عشق کے انداز پر
نغمۂ غم جب بھی چھیڑا ہم نے دل کے ساز پر
خار زار زندگی کو بھی بنا دیتا ہے خُلد
کیوں نہ ہم ایمان لائیں عشق کے اعجاز پر
تیری اپنی ذات میں مضمر ہے حُسن لم یزل
کس لیے سجدے پہ سجدہ جلوہ گاہ ناز پر
حُسن کیا کیا مُسکرایا عشق کے انداز پر
نغمۂ غم جب بھی چھیڑا ہم نے دل کے ساز پر
خار زار زندگی کو بھی بنا دیتا ہے خُلد
کیوں نہ ہم ایمان لائیں عشق کے اعجاز پر
تیری اپنی ذات میں مضمر ہے حُسن لم یزل
کس لیے سجدے پہ سجدہ جلوہ گاہ ناز پر
جو بشر طوفاں سے ٹکراتا نہیں
اپنی عظمت کو سمجھ پاتا نہیں
جستجو میں خود جو کھو جاتا نہیں
گوہر مقصود کو پاتا نہیں
کس کو دیکھیں اس بھری دنیا میں ہم
کوئی بھی تم سا نظر آتا نہیں
اعجاز رحمت
یہ جہان رنگ و بو
ایک طوفان بلا
اور میرا دل غریب
ایک ننھا سا دیا
رنگ و بو کے سیل کی
تاب لا سکتا نہ تھا
محبت پھول بھی ہے خار بھی ہے
یہ ویرانہ بھی ہے گلزار بھی ہے
فروزاں کرکے دیکھے شمع دل کو
پتنگا پیکر انوار بھی ہے
کمال آگہی پر مرنے والو
کمال آگہی آزار بھی ہے