Sunday, 1 November 2026

بات اتنی بھی نہ تھی جی سے گزر جاتے ہم

 بات اتنی بھی نہ تھی جی سے گُزر جاتے ہم

اک نِگاہِ غلط انداز سے مر جاتے ہم

اب تو یوں لگتا ہے بس غم نے جکڑ رکھا ہے

غم نہ ہوتے تو بھلا کب کے بِکھر جاتے ہم

دوپہر بھی نہ ڈھلی اور نہ پتھر ہی کٹے

شام ہوتی تو کہیں لوٹ کے گھر جاتے ہم

منزلِ شوق ہی وِیران پڑی ہے کب سے

ورنہ اس راہ سے یوں خاک بسَر جاتے ہم

تجھ سے ساون کی گھٹائیں تو نہیں مانگی تھیں

اتنے پیاسے تھے کہ اک بُوند سے بھر جاتے ہم

کیسا کیسا نہ زمانے نے تراشا ہم کو

سخت پتھر بھی جو ہوتے تو سنور جاتے ہم

دُکھ کے صحراؤں میں چیخوں نے قدم روک لیے

ورنہ آنکھوں کے سمندر میں اُتر جاتے ہم

زرد چہرے پہ تھا گُزری ہوئی خُوشیوں کا غُبار

پیار کی بُوند بھی پڑتی تو نِکھر جاتے ہم

نہ بُلاتے ہمیں، محفل تو سجائی ہوتی

لوحِ احساس پہ دُکھ بن کے اُبھر جاتے ہم


رضی عابدی

No comments:

Post a Comment