ہر خوابِ محبت کے انجام پہ نظریں تھیں
جب آنکھ کُھلی میری، آلام پہ نظریں تھیں
اے دوست! رہِ غم میں ہر گام پہ نظریں تھیں
ہر صُبح سے خائف تھے، ہر شام پہ نظریں تھیں
دلدادۂ غم پہنچے،۔ اے دوست! سرِ منزل
تھک کر وہ گِرے جن کی آرام پہ نظریں تھیں
دیوانۂ منزل کی اللہ رے ہُشیاری
آغازِ سفر ہی سے انجام پہ نظریں تھیں
مے خانے میں اے ساقی! ایسا بھی ہُوا اکثر
لب پر مِرے توبہ تھی اور جام پہ نظریں تھیں
موسم کے تقاضے پر، مئے نوش تو پی آئے
زاہد کی مگر اپنے انجام پہ نظریں تھیں
موضوعِ غزل اس نے جس وقت دیا حسرت
ہم فکرِ سخن میں تھے الہام پہ نظریں تھیں
حسرت شادانی
عبدالقادر
No comments:
Post a Comment