Showing posts with label قمر سرور. Show all posts
Showing posts with label قمر سرور. Show all posts

Saturday, 2 November 2024

آشنا سب سے ہے زمانے میں

 آشنا سب سے ہے زمانے میں

ہوش کتنا ہے اس دِوانے میں

سب ہیں اونچے محلات کے شیدائی

کون آئے غریب خانے میں

کس قیامت سے ہم گزرتے ہیں

تیری محفل سے اٹھ کے جانے میں

Friday, 29 April 2022

زندگی ریگزار ہے کتنی

 زندگی ریگزار ہے کتنی

میرے غم پر بہار ہے کتنی

مخملی لفظ ہے محبت کا

یہ مگر دھار دار ہے کتنی

اور کتنی بچیں ہیں اب سانسیں

یہ شبِ انتظار ہے کتنی

Saturday, 14 August 2021

حادثے ہونے لگیں تو ہم دعا کو ڈھونڈتے ہیں

 حادثے ہونے لگیں تو ہم دعا کو ڈھونڈتے ہیں

مسلکوں کی قید میں رہ کر خدا کو ڈھونڈھتے ہیں

نوچتے ہیں ہم بدن سے خود قبائے زندگانی

اور پھر ہم گمشدہ اپنی ردا کو ڈھونڈتے ہیں

ہم فضا میں گھولتے ہیں زہر خود سوچوں کا اپنی

سانس لینے کے لیے پھر خود ہوا کو ڈھونڈتے ہیں

Monday, 26 July 2021

راستہ روکے ہے دل پھر بھی ادھر جانا ہے

 راستہ روکے ہے دل پھر بھی ادھر جانا ہے

رات کرتی ہے تقاضہ؛ چلو، گھر جانا ہے

ہم بھی دیکھیں گے کسک دل میں رہے گی کب تک

دل کے زخموں کو کسی روز تو بھر جانا ہے

اب تو لینا ہیں یہ سانسیں بھی تِری ہی خاطر

اور تِرے ساتھ ہی اک دن مجھے مر جانا ہے

Sunday, 25 July 2021

تم جس طرف چلو گے ادھر کام آئے گا

 تم جس طرف چلو گے ادھر کام آئے گا

رات آئی تو چراغِ نظر کام آئے گا

مت کاٹئے کہ دھوپ کا موسم قریب ہے

سایہ سکون دے گا شجر کام آئے گا

تم آنسوؤں کی روشنی رکھنا سنبھال کر

تاریکیوں میں دیدۂ تر کام آئے گا

Wednesday, 21 July 2021

کس قدر بد گمان ہے مجھ سے

 کس قدر بد گمان ہے مجھ سے

وہ مِرا مہربان ہے مجھ سے

بات کرتا نہیں ذرا بھر بھی

کھنچ کے تیر و کمان ہے مجھ سے

ہوں محرک تِری کہانی کی

یہ تِری داستان ہے مجھ سے

Tuesday, 20 July 2021

کس نے کہا کہ گرد سفر لے گئی ہوا

 کس نے کہا کہ گردِ سفر لے گئی ہوا

آنکھوں میں تھی جو تابِ نظر لے گئی ہوا

میں نے کتاب کھول دی اک روز عشق کی

سارے ورق اڑا کے مگر لے گئی ہوا

شاخوں کا جھولا اس نے جھلایا تھا ہوش میں

پاگل ہوئی تو برگِ شجر لے گئی ہوا

Monday, 19 July 2021

چاہتوں کو عمر بھر کا غم بنانا اور ہے

 چاہتوں کو عمر بھر کا غم بنانا اور ہے

یوں کسی کی یاد میں آنسو بہانا اور ہے

مجھ کو ملتا ہی نہیں میرے سفر کا راستہ

منزلیں میری الگ، میرا ٹھکانہ اور ہے

اب لگا کہ قربتوں میں فاصلے بڑھنے لگے

ان دنوں اس کی گلی میں آنا جانا اور ہے

Sunday, 18 July 2021

ماں میں تیرے جیسی ہوں درد کو چھپاتی ہوں

 ماں میں تیرے جیسی ہوں


ماں میں تیرے جیسی ہوں

درد کو چھپاتی ہوں

سب کا غم بٹاتی ہوں

زندگی کے طوفاں سے

روز جنگ کرتی ہوں

پھر بھی ہنستی رہتی ہوں