آشنا سب سے ہے زمانے میں
ہوش کتنا ہے اس دِوانے میں
سب ہیں اونچے محلات کے شیدائی
کون آئے غریب خانے میں
کس قیامت سے ہم گزرتے ہیں
تیری محفل سے اٹھ کے جانے میں
آشنا سب سے ہے زمانے میں
ہوش کتنا ہے اس دِوانے میں
سب ہیں اونچے محلات کے شیدائی
کون آئے غریب خانے میں
کس قیامت سے ہم گزرتے ہیں
تیری محفل سے اٹھ کے جانے میں
زندگی ریگزار ہے کتنی
میرے غم پر بہار ہے کتنی
مخملی لفظ ہے محبت کا
یہ مگر دھار دار ہے کتنی
اور کتنی بچیں ہیں اب سانسیں
یہ شبِ انتظار ہے کتنی
حادثے ہونے لگیں تو ہم دعا کو ڈھونڈتے ہیں
مسلکوں کی قید میں رہ کر خدا کو ڈھونڈھتے ہیں
نوچتے ہیں ہم بدن سے خود قبائے زندگانی
اور پھر ہم گمشدہ اپنی ردا کو ڈھونڈتے ہیں
ہم فضا میں گھولتے ہیں زہر خود سوچوں کا اپنی
سانس لینے کے لیے پھر خود ہوا کو ڈھونڈتے ہیں
راستہ روکے ہے دل پھر بھی ادھر جانا ہے
رات کرتی ہے تقاضہ؛ چلو، گھر جانا ہے
ہم بھی دیکھیں گے کسک دل میں رہے گی کب تک
دل کے زخموں کو کسی روز تو بھر جانا ہے
اب تو لینا ہیں یہ سانسیں بھی تِری ہی خاطر
اور تِرے ساتھ ہی اک دن مجھے مر جانا ہے
تم جس طرف چلو گے ادھر کام آئے گا
رات آئی تو چراغِ نظر کام آئے گا
مت کاٹئے کہ دھوپ کا موسم قریب ہے
سایہ سکون دے گا شجر کام آئے گا
تم آنسوؤں کی روشنی رکھنا سنبھال کر
تاریکیوں میں دیدۂ تر کام آئے گا
کس قدر بد گمان ہے مجھ سے
وہ مِرا مہربان ہے مجھ سے
بات کرتا نہیں ذرا بھر بھی
کھنچ کے تیر و کمان ہے مجھ سے
ہوں محرک تِری کہانی کی
یہ تِری داستان ہے مجھ سے
کس نے کہا کہ گردِ سفر لے گئی ہوا
آنکھوں میں تھی جو تابِ نظر لے گئی ہوا
میں نے کتاب کھول دی اک روز عشق کی
سارے ورق اڑا کے مگر لے گئی ہوا
شاخوں کا جھولا اس نے جھلایا تھا ہوش میں
پاگل ہوئی تو برگِ شجر لے گئی ہوا
چاہتوں کو عمر بھر کا غم بنانا اور ہے
یوں کسی کی یاد میں آنسو بہانا اور ہے
مجھ کو ملتا ہی نہیں میرے سفر کا راستہ
منزلیں میری الگ، میرا ٹھکانہ اور ہے
اب لگا کہ قربتوں میں فاصلے بڑھنے لگے
ان دنوں اس کی گلی میں آنا جانا اور ہے
ماں میں تیرے جیسی ہوں
ماں میں تیرے جیسی ہوں
درد کو چھپاتی ہوں
سب کا غم بٹاتی ہوں
زندگی کے طوفاں سے
روز جنگ کرتی ہوں
پھر بھی ہنستی رہتی ہوں