Sunday, 18 July 2021

ماں میں تیرے جیسی ہوں درد کو چھپاتی ہوں

 ماں میں تیرے جیسی ہوں


ماں میں تیرے جیسی ہوں

درد کو چھپاتی ہوں

سب کا غم بٹاتی ہوں

زندگی کے طوفاں سے

روز جنگ کرتی ہوں

پھر بھی ہنستی رہتی ہوں

کتنا صبر کرتی ہوں

ماں میں تیرے جیسی ہوں

آس میں خوشی کی میں

سب غموں کو پی جاؤں

سوچتی ہوں اک دن تو

آئے گا کوئی لمحہ

جب سنور کے اُبھرے گا

تارہ میری قسمت کا

سوچتی ہوں میں اکثر

ماں میں تیرے جیسی ہوں

لوگ مجھ سے کہتے ہیں

تو جدا ہوئی مجھ سے

میں بچھڑ گئی تجھ سے

پر میں جانتی ہوں تو

مجھ میں منتقل ہوکر

آج مجھ میں زندہ ہے

مجھ سے سب یہ کہتے ہیں

ماں میں تیرے جیسی ہوں

ہاں میں تیرے جیسی ہوں


قمر سرور

No comments:

Post a Comment