ماں میں تیرے جیسی ہوں
ماں میں تیرے جیسی ہوں
درد کو چھپاتی ہوں
سب کا غم بٹاتی ہوں
زندگی کے طوفاں سے
روز جنگ کرتی ہوں
پھر بھی ہنستی رہتی ہوں
کتنا صبر کرتی ہوں
ماں میں تیرے جیسی ہوں
آس میں خوشی کی میں
سب غموں کو پی جاؤں
سوچتی ہوں اک دن تو
آئے گا کوئی لمحہ
جب سنور کے اُبھرے گا
تارہ میری قسمت کا
سوچتی ہوں میں اکثر
ماں میں تیرے جیسی ہوں
لوگ مجھ سے کہتے ہیں
تو جدا ہوئی مجھ سے
میں بچھڑ گئی تجھ سے
پر میں جانتی ہوں تو
مجھ میں منتقل ہوکر
آج مجھ میں زندہ ہے
مجھ سے سب یہ کہتے ہیں
ماں میں تیرے جیسی ہوں
ہاں میں تیرے جیسی ہوں
قمر سرور
No comments:
Post a Comment