Sunday, 18 July 2021

وفا کا موسم بیت گیا چلو ہم اجنبی ہو جاتے ہیں

وفا کا موسم بیت گیا 


چلو ہم اجنبی ہو جاتے ہیں

تیری زندگی سے

بہت دور چلے جاتے ہیں

ہم خاموش ہو جاتے ہیں

تنہائی آغوش ہو جاتے ہیں

چلو ہم اجنبی ہو جاتے

سبھی سلسلے توڑ جاتے ہیں

راہ و رسم چھوڑ جاتے ہیں

تیرے شہرِ دل سے

کہیں دور نکل جاتے ہیں

ہو کے مجبور نکل جاتے ہیں

چلو ہم اجنبی ہو جاتے ہیں

چلو ہم اجنبی ہو جاتے ہیں


رابیل رابی

No comments:

Post a Comment