وفا کا موسم بیت گیا
چلو ہم اجنبی ہو جاتے ہیں
تیری زندگی سے
بہت دور چلے جاتے ہیں
ہم خاموش ہو جاتے ہیں
تنہائی آغوش ہو جاتے ہیں
چلو ہم اجنبی ہو جاتے
سبھی سلسلے توڑ جاتے ہیں
راہ و رسم چھوڑ جاتے ہیں
تیرے شہرِ دل سے
کہیں دور نکل جاتے ہیں
ہو کے مجبور نکل جاتے ہیں
چلو ہم اجنبی ہو جاتے ہیں
چلو ہم اجنبی ہو جاتے ہیں
رابیل رابی
No comments:
Post a Comment