پرندے ہنس رہے ہوں گے
پرندے ہنس رہے ہوں گے
زمیں سے دور جا کر دیکھتے ہوں گے
کہ ویرانوں میں کتے بھونکتے ہیں
اور انسانوں کو دیواروں کے اندر قید کر کے
سانس لینے کی فضا سے دور رکھا ہے
پرندے ہنس رہے ہوں گے
پرندے ہنس رہے ہوں گے
زمیں سے دور جا کر دیکھتے ہوں گے
کہ ویرانوں میں کتے بھونکتے ہیں
اور انسانوں کو دیواروں کے اندر قید کر کے
سانس لینے کی فضا سے دور رکھا ہے
کسے رُخصت کریں
ستارے ٹُوٹتے ہیں
ڈُوب جاتے ہیں
اندھیرا اور بڑھتا ہے
ابھی تک روشنی رُوٹھی ہوئی ہے
کسے رُخصت کریں
رات بھر کوئی نہ دروازہ کھلا
دستکیں دیتی رہی پاگل ہوا
وقت بھی پہچان سے مُنکر رہا
دُھند میں لِپٹا رہا یہ ⌗آئینا
کوئی بھی خواہش نہ پوری ہو سکی
راستے میں لُٹ گیا یہ قافلا
اگرچہ پار کاغذ کی کبھی کشتی نہیں جاتی
مگر اپنی یہ مجبوری کہ خوش فہمی نہیں جاتی
خدا جانے گریباں کس کے ہیں اور ہاتھ کس کے ہیں
اندھیرے میں کسی کی شکل پہچانی نہیں جاتی
مِری خواہش ہے دنیا کو بھی اپنے ساتھ لے آؤں
بلندی کی طرف لیکن کبھی پستی نہیں جاتی
زمیں مدار سے اپنے اگر نکل جائے
نہ جانے کون سا منظر کدھر نکل جائے
اب آفتاب سوا نیزے پر اُترنا ہے
گرفت شب سے ذرا یہ سحر نکل جائے
ثمر گِرا کے بھی آندھی کی خو نہیں بدلی
یہی نہیں کہ جڑوں سے شجر نکل جائے
جو رستہ چُن لیا اس کو بدلنا کیوں نہیں آیا
مجھے اوروں کے نقشِ پا پہ چلنا کیوں نہیں آیا
مِرے جذبوں کی حِدت اس کے دل تک ہی نہیں پہنچی
مِری کِرنوں کو بادل سے نکلنا کیوں نہیں آیا
ذرا سا لڑکھڑا کر گِر پڑا میں ایک ٹھوکر سے
قدم اُکھڑے تو پھر مجھ کو سنبھلنا کیوں نہیں آیا
یہ زمیں ہم کو ملی بہتے ہوئے پانی کے ساتھ
اک سمندر پار کرنا ہے اسی کشتی کے ساتھ
عمر یونہی تو نہیں کٹتی بگولوں کی طرح
خاک اڑنے کے لیے مجبور ہے آندھی کے ساتھ
جانے کس امید پر ہوں آبیاری میں مگن
ایک پتہ بھی نہیں سوکھی ہوئی ٹہنی کے ساتھ