Showing posts with label اقبال نوید. Show all posts
Showing posts with label اقبال نوید. Show all posts

Monday, 3 October 2022

پرندے ہنس رہے ہوں گے

 پرندے ہنس رہے ہوں گے


پرندے ہنس رہے ہوں گے 

زمیں سے دور جا کر دیکھتے ہوں گے

کہ ویرانوں میں کتے بھونکتے ہیں 

اور انسانوں کو دیواروں کے اندر قید کر کے 

سانس لینے کی فضا سے دور رکھا ہے 

Thursday, 2 December 2021

کسے رخصت کریں کس سے ملیں

 کسے رُخصت کریں 


ستارے ٹُوٹتے ہیں 

ڈُوب جاتے ہیں 

اندھیرا اور بڑھتا ہے 

ابھی تک روشنی رُوٹھی ہوئی ہے 

کسے رُخصت کریں 

Saturday, 19 June 2021

رات بھر کوئی نہ دروازہ کھلا دستکیں دیتی رہی پاگل ہوا

 رات بھر کوئی نہ دروازہ کھلا

دستکیں دیتی رہی پاگل ہوا

وقت بھی پہچان سے مُنکر رہا

دُھند میں لِپٹا رہا یہ ⌗آئینا

کوئی بھی خواہش نہ پوری ہو سکی

راستے میں لُٹ گیا یہ قافلا

Thursday, 17 June 2021

اگرچہ پار کاغذ کی کبھی کشتی نہیں جاتی

 اگرچہ پار کاغذ کی کبھی کشتی نہیں جاتی

مگر اپنی یہ مجبوری کہ خوش فہمی نہیں جاتی

خدا جانے گریباں کس کے ہیں اور ہاتھ کس کے ہیں

اندھیرے میں کسی کی شکل پہچانی نہیں جاتی

مِری خواہش ہے دنیا کو بھی اپنے ساتھ لے آؤں

بلندی کی طرف لیکن کبھی پستی نہیں جاتی

زمیں مدار سے اپنے اگر نکل جائے

 زمیں مدار سے اپنے اگر نکل جائے

نہ جانے کون سا منظر کدھر نکل جائے

اب آفتاب سوا نیزے پر اُترنا ہے

گرفت شب سے ذرا یہ سحر نکل جائے

ثمر گِرا کے بھی آندھی کی خو نہیں بدلی

یہی نہیں کہ جڑوں سے شجر نکل جائے

Wednesday, 16 June 2021

جو رستہ چن لیا اس کو بدلنا کیوں نہیں آیا

 جو رستہ چُن لیا اس کو بدلنا کیوں نہیں آیا

مجھے اوروں کے نقشِ پا پہ چلنا کیوں نہیں آیا

مِرے جذبوں کی حِدت اس کے دل تک ہی نہیں پہنچی

مِری کِرنوں کو بادل سے نکلنا کیوں نہیں آیا

ذرا سا لڑکھڑا کر گِر پڑا میں ایک ٹھوکر سے

قدم اُکھڑے تو پھر مجھ کو سنبھلنا کیوں نہیں آیا

Sunday, 10 January 2021

یہ زمیں ہم کو ملی بہتے ہوئے پانی کے ساتھ

 یہ زمیں ہم کو ملی بہتے ہوئے پانی کے ساتھ

اک سمندر پار کرنا ہے اسی کشتی کے ساتھ

عمر یونہی تو نہیں کٹتی بگولوں کی طرح

خاک اڑنے کے لیے مجبور ہے آندھی کے ساتھ

جانے کس امید پر ہوں آبیاری میں مگن

ایک پتہ بھی نہیں سوکھی ہوئی ٹہنی کے ساتھ