Thursday, 17 June 2021

اگرچہ پار کاغذ کی کبھی کشتی نہیں جاتی

 اگرچہ پار کاغذ کی کبھی کشتی نہیں جاتی

مگر اپنی یہ مجبوری کہ خوش فہمی نہیں جاتی

خدا جانے گریباں کس کے ہیں اور ہاتھ کس کے ہیں

اندھیرے میں کسی کی شکل پہچانی نہیں جاتی

مِری خواہش ہے دنیا کو بھی اپنے ساتھ لے آؤں

بلندی کی طرف لیکن کبھی پستی نہیں جاتی

خیالوں میں ہمیشہ اس غزل کو گنگناتا ہوں

کہ جو کاغذ کے چہرے پر کبھی لکھی نہیں جاتی

وہی رستے، وہی رونق، وہی ہیں عام سے چہرے

نوید آنکھوں کی لیکن پھر بھی حیرانی نہیں جاتی


اقبال نوید

No comments:

Post a Comment