آرزو صورتِ حیات ملی
ذات اک ماورائے ذات ملی
تم جو بچھڑے، بچھڑ گئی دنیا
تم مِلے جب ، تو کائنات ملی
تم کو ڈھونڈا تو کھو گئے خود ہی
تم کو پایا تو اپنی ذات ملی
آرزو صورتِ حیات ملی
ذات اک ماورائے ذات ملی
تم جو بچھڑے، بچھڑ گئی دنیا
تم مِلے جب ، تو کائنات ملی
تم کو ڈھونڈا تو کھو گئے خود ہی
تم کو پایا تو اپنی ذات ملی
حکایتِ غمِ ہستی کوئی سنے تو کہوں
بھرے جہاں میں کوئی ہمنفس ملے تو کہوں
شبِ فراق کی ظلمت میں دل پہ کیا گزری
کوئی چراغ اگر بزم میں جلے تو کہوں
نہ پوچھ دل پہ جو گزری شکستِ جام کے بعد
ذرا سی گردشِ دوراں اگر رُکے تو کہوں
ہر ایک گام پہ سجدہ یہاں روا ہو گا
خودی کا دور ہے ہر شخص اب خدا ہو گا
بنامِ فصلِ بہاراں خزاں کی پُوجا ہے
یہی مذاقِ گلستاں رہا تو کیا ہو گا
دُھواں سا اُٹھنے لگا دل سے اہلِ محفل میں
نیا چراغ کوئی بزم میں جلا ہو گا
ستم ہے دل کے دھڑکنے کو بھی قرار کہیں
تمہارے جبر کو اپنا ہی اختیار کہیں
سکوں وہی ہے جسے چارہ گر سکوں کہہ دیں
کہاں یہ اذن کہ کچھ تیرے بے قرار کہیں
چھپائیں داغِ جگر پھول جتنا ممکن ہو
کہیں نہ اہلِ نظر ان کو دلِ فگار کہیں
روشن ہوں دل کے داغ تو لب پر فغاں کہاں
اے ہم صفیر! آتشِ گُل میں دُہواں کہاں
ہے نام آشیاں کا،۔ مگر آشیاں کہاں؟
بکھرے ہوئے ہیں خاک میں تنکے کہاں کہاں
اٹھ اٹھ کے پوچھتا ہی رہا راہ کا غبار
کہتا مگر یہ کون؟ لُٹا کارواں کہاں
مژگاں پہ آج یاس کے موتی بکھر گئے
ظلمت بڑھی جو رات کی تارے نکھر گئے
کیسی ضیا ہے یہ جو منور ہیں بام و در
سُوئے فلک یہ کس کی فغاں کے شرر گئے
شکوے ہیں آسماں سے، زمیں سے شکایتیں
الزام ان کے جور کے کس کس کے سر گئے