Showing posts with label وحیدہ نسیم. Show all posts
Showing posts with label وحیدہ نسیم. Show all posts

Sunday, 12 December 2021

آرزو صورت حیات ملی

 آرزو صورتِ حیات ملی

ذات اک ماورائے ذات ملی

تم جو بچھڑے، بچھڑ گئی دنیا

تم مِلے جب ، تو کائنات ملی

تم کو ڈھونڈا تو کھو گئے خود ہی

تم کو پایا تو اپنی ذات ملی

Saturday, 12 June 2021

حکایت غم ہستی کوئی سنے تو کہوں

 حکایتِ غمِ ہستی کوئی سنے تو کہوں

بھرے جہاں میں کوئی ہمنفس ملے تو کہوں

شبِ فراق کی ظلمت میں دل پہ کیا گزری

کوئی چراغ اگر بزم میں جلے تو کہوں

نہ پوچھ دل پہ جو گزری شکستِ جام کے بعد

ذرا سی گردشِ دوراں اگر رُکے تو کہوں

ہر ایک گام پہ سجدہ یہاں روا ہو گا

 ہر ایک گام پہ سجدہ یہاں روا ہو گا

خودی کا دور ہے ہر شخص اب خدا ہو گا

بنامِ فصلِ بہاراں خزاں کی پُوجا ہے

یہی مذاقِ گلستاں رہا تو کیا ہو گا

دُھواں سا اُٹھنے لگا دل سے اہلِ محفل میں

نیا چراغ کوئی بزم میں جلا ہو گا

Friday, 11 June 2021

ستم ہے دل کے دھڑکنے کو بھی قرار کہیں

 ستم ہے دل کے دھڑکنے کو بھی قرار کہیں

تمہارے جبر کو اپنا ہی اختیار کہیں

سکوں وہی ہے جسے چارہ گر سکوں کہہ دیں

کہاں یہ اذن کہ کچھ تیرے بے قرار کہیں

چھپائیں داغِ جگر پھول جتنا ممکن ہو

کہیں نہ اہلِ نظر ان کو دلِ فگار کہیں

Monday, 29 March 2021

روشن ہوں دل کے داغ تو لب پر فغاں کہاں

 روشن ہوں دل کے داغ تو لب پر فغاں کہاں

اے ہم صفیر! آتشِ گُل میں دُہواں کہاں

ہے نام آشیاں کا،۔ مگر آشیاں کہاں؟

بکھرے ہوئے ہیں خاک میں تنکے کہاں کہاں

اٹھ اٹھ کے پوچھتا ہی رہا راہ کا غبار

کہتا مگر یہ کون؟ لُٹا کارواں کہاں

Monday, 16 November 2020

مژگاں پہ آج یاس کے موتی بکھر گئے

 مژگاں پہ آج یاس کے موتی بکھر گئے

ظلمت بڑھی جو رات کی تارے نکھر گئے

کیسی ضیا ہے یہ جو منور ہیں بام و در

سُوئے فلک یہ کس کی فغاں کے شرر گئے

شکوے ہیں آسماں سے، زمیں سے شکایتیں

الزام ان کے جور کے کس کس کے سر گئے