آرزو صورتِ حیات ملی
ذات اک ماورائے ذات ملی
تم جو بچھڑے، بچھڑ گئی دنیا
تم مِلے جب ، تو کائنات ملی
تم کو ڈھونڈا تو کھو گئے خود ہی
تم کو پایا تو اپنی ذات ملی
نم نگاہوں نے رکھ لیا پردہ
جب نہ کہنے کو کوئی بات ملی
دل کی منزل پہ دیکھیے کیا ہو
رہگزر پر تو کائنات ملی
لے کے ہم سوزِ جاوِداں خوش ہیں
زندگانی تو بے ثبات ملی
بڑھ گیا اُن کے کرب کا عالم
جن کو تسکینِ التفات ملی
سہہ سکیں گے کوئی بھی غم نہ نسیم
اُن کے غم سے اگر نجات ملی
وحیدہ نسیم
No comments:
Post a Comment