Sunday, 12 December 2021

پہلے تو میرا رقص سر دار دیکھنا

 پہلے تو میرا رقص سرِ دار دیکھنا

پھر یہ کہ پھر نوشتۂ دیوار دیکھنا

آنکھوں میں کھنچ کے رہ گئی تصویرِ ہجرِ یار

لائی ہے رنگ، حسرتِ دیدار دیکھنا

گردن میں طوق پاؤں میں بیڑی پڑی ہوئی

مقتل میں آ رہے ہیں گنہگار دیکھنا

زنداں میں روز و شب کے مشاغل نہ پوچھیے

در دیکھنا کبھی، کبھی دیوار دیکھنا

میں کیا کروں کہ میرا مقدر ازل سے ہے

تیرہ شبی میں صبح کے آثار دیکھنا

ہم اہلِ دل کو کوئے ملامت میں دوستو

دیکھا نہ جا سکے تو سرِ دار دیکھنا


خالد علیگ

No comments:

Post a Comment