میری آنکھوں میں جو یہ پانی ہے
یہ مِرے یار کی نشانی ہے
تم محبت کی بات کرتے ہو
رائیگانی ہی رائیگانی ہے
مجھ کو تم سے گِلہ ہی کیونکر ہو
تم نے پہلے کسی کی مانی ہے
کام آئیں کسی کے مشکل میں
بس یہی فخرِ زندگانی ہے
ہر کسی پر یقین کرتی ہے
کتنی کمبخت یہ جوانی ہے
آج کل داستاں محبت کی
رام لِیلا سی اک کہانی ہے
وہ محبت کا درس دیتا ہے
اس کی عادت بڑی پرانی ہے
مجھ سے ساجد وہ جب بھی پوچھے گا
میں نے بھی داستاں سُنانی ہے
عجیب ساجد
No comments:
Post a Comment