جو مٹی کے کھلونے بیچتا تھا
خُدائی کے وہ نقشے بیچتا تھا
جو اک آواز دھیمی آ رہی تھی
کوئی مجبور، فاقے بیچتا تھا
کسی کی جان کی قیمت تھی کوڑی
کوئی لاکھوں کے لمحے بیچتا تھا
جو مٹی کے کھلونے بیچتا تھا
خُدائی کے وہ نقشے بیچتا تھا
جو اک آواز دھیمی آ رہی تھی
کوئی مجبور، فاقے بیچتا تھا
کسی کی جان کی قیمت تھی کوڑی
کوئی لاکھوں کے لمحے بیچتا تھا
یہ زندگی کے ماہ و سال، حال میں گزر گئے
جو حال میں نہیں تھے، وہ زوال میں گزر گئے
جو خار تھے وہ پھول ہیں جو خواب تھے وہ دھول ہیں
جلال میں گزر گئے، جمال میں گزر گئے
نگاہ کی کجی تھی، اور دماغ کا فتور تھا
جو دیکھنےمیں پست تھے کمال میں گزر گئے
جن کے غم نے لہو رلائے ہیں
وہ یہ کہتے ہیں، ہم پرائے ہیں
ہاتھ اٹھتے رہے ہمیں پر جو
ہاتھ ان کے لیے اٹھائے ہیں
آپ کا انتظار رہتا تھا
سینکڑوں شُکر آپ آئے ہیں
کھیت پیاسا ہے تو بادل کو بلایا جائے
ابر اُمڈے تو کوئی خواب اگایا جائے
وہ کوئی راز ہے ایسا جو چھپایا جائے
وہ تو اک خواب ہے من میں جو سمایا جائے
رات سوتی ہے تو سانسیں نہیں روکی جاتیں
آنکھ اندھی ہو تو سورج نہ بجھایا جائے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
چاند سورج اور ستارے سب انہیﷺ کے واسطے
پھول کلیاں اور نظارے سب انہیﷺ کے واسطے
رات کی رانی کی خوشبو، انﷺ کا شب کو جاگنا
موتیے جو مُشکبارے، سب انہیﷺ کے واسطے
آسمانوں کی بلندی انﷺ کی رفعت کا نشاں
شان کے اونچے منارے، سب انہیﷺ کے واسطے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
غبارِ راہ سے انﷺ کی، یہ ساری داستاں روشن
جبیں کے شبنمی قطرے، ستارے کہکشاں روشن
مہکتے باغ جنت کے انہیﷺ کی چند سانسیں ہیں
انہیﷺ کی مسکراہٹ سے بہشتی وادیاں روشن
کہ روشن انﷺ کے آنے سے ہوئے سائے جہالت کے
کہ انﷺ کا آخری خطبہ ہے حکمت کا بیاں روشن
سخت حالات کا پتھر سے تو شکوہ نہ کرے
ایسے سنگین خداؤں کو تو سجدہ نہ کرے
یا مِرا ساتھ نبھائے سرِ دشتِ جنوں وہ
یا مِرا ہاتھ گھڑی بھر کو بھی پکڑا نہ کرے
کوئی کب تک یوں رہے خواب جزیرے پہ رکا
ہے اگر نیند تو کیا نیند سے جاگا نہ کرے
خالی گھر بار سے باتیں کیں
لگ کے دیوار سے باتیں کیں
تیرے چلے جانے کے بعد
تیری گُفتار سے باتیں کیں
ہم تیغ زنی کریں لفظوں کی
اس نے تلوار سے باتیں کیں