Showing posts with label راشد ڈوگر. Show all posts
Showing posts with label راشد ڈوگر. Show all posts

Monday, 15 April 2024

جو مٹی کے کھلونے بیچتا تھا

 جو مٹی کے کھلونے بیچتا تھا

خُدائی کے وہ نقشے بیچتا تھا 

جو اک آواز دھیمی آ رہی تھی

کوئی مجبور، فاقے بیچتا تھا 

کسی کی جان کی قیمت تھی کوڑی

کوئی لاکھوں کے لمحے بیچتا تھا 

Saturday, 19 August 2023

یہ زندگی کے ماہ و سال حال میں گزر گئے

 یہ زندگی کے ماہ و سال، حال  میں گزر گئے

جو حال میں نہیں تھے، وہ زوال میں گزر گئے

جو خار تھے وہ پھول ہیں جو خواب تھے وہ دھول ہیں

جلال میں گزر گئے، جمال میں گزر گئے

نگاہ کی کجی تھی، اور دماغ کا فتور تھا

جو دیکھنےمیں پست تھے کمال میں گزر گئے

Tuesday, 18 July 2023

جن کے غم نے لہو رلائے ہیں

 جن کے غم نے لہو رلائے ہیں 

وہ یہ کہتے ہیں، ہم پرائے ہیں

ہاتھ اٹھتے رہے ہمیں پر جو

ہاتھ ان کے لیے اٹھائے ہیں

آپ کا انتظار رہتا تھا 

سینکڑوں شُکر آپ آئے ہیں 

Thursday, 20 April 2023

کھیت پیاسا ہے تو بادل کو بلایا جائے

 کھیت پیاسا ہے تو بادل کو بلایا جائے 

ابر اُمڈے تو کوئی خواب اگایا جائے

وہ کوئی راز ہے ایسا جو چھپایا جائے

وہ تو اک خواب ہے من میں جو سمایا جائے

رات سوتی ہے تو سانسیں نہیں روکی جاتیں 

آنکھ اندھی ہو تو سورج نہ بجھایا جائے

Wednesday, 19 April 2023

چاند سورج اور ستارے سب انہی کے واسطے

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


چاند سورج اور ستارے سب انہیﷺ کے واسطے

پھول کلیاں اور نظارے سب انہیﷺ کے واسطے

رات کی رانی کی خوشبو، انﷺ کا شب کو جاگنا

موتیے جو مُشکبارے، سب انہیﷺ کے واسطے

آسمانوں کی بلندی انﷺ کی رفعت کا نشاں

شان کے اونچے منارے، سب انہیﷺ کے واسطے 

Tuesday, 18 April 2023

غبار راہ سے ان کی یہ ساری داستاں روشن

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


غبارِ راہ سے انﷺ کی، یہ ساری داستاں روشن 

جبیں کے شبنمی قطرے، ستارے کہکشاں روشن

مہکتے باغ جنت کے انہیﷺ کی چند سانسیں ہیں

انہیﷺ کی مسکراہٹ سے بہشتی وادیاں روشن 

کہ روشن انﷺ کے آنے سے ہوئے سائے جہالت کے

کہ انﷺ کا آخری خطبہ ہے حکمت کا بیاں روشن

Monday, 17 April 2023

سخت حالات کا پتھر سے تو شکوہ نہ کرے

 سخت حالات کا پتھر سے تو شکوہ نہ کرے

ایسے سنگین خداؤں کو تو سجدہ نہ کرے

یا مِرا ساتھ نبھائے سرِ دشتِ جنوں وہ

یا مِرا ہاتھ گھڑی بھر کو بھی پکڑا نہ کرے

کوئی کب تک یوں رہے خواب جزیرے پہ رکا

ہے اگر نیند تو کیا نیند سے جاگا نہ کرے

Friday, 9 July 2021

خالی گھر بار سے باتیں کیں

 خالی گھر بار سے باتیں کیں

لگ کے دیوار سے باتیں کیں

تیرے چلے جانے کے بعد

تیری گُفتار سے باتیں کیں 

ہم تیغ زنی کریں لفظوں کی

اس نے تلوار سے باتیں کیں