عارفانہ کلام نعتیہ کلام
رنگ پر تب ہی مِرے دل کی دعا آئے گی
جب مدینے سے بلاوے کی ندا آئے گی
یادِ بطحا جو مدینے کو چلی جاتی ہے
گنبدِ سبز کو یہ ہاتھ لگا آئے گی
جو بھی دل عشقِ محمدﷺ میں فنا ہو جائے
اس سے پھر صرف درودوں کی صدا آئے گی
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
رنگ پر تب ہی مِرے دل کی دعا آئے گی
جب مدینے سے بلاوے کی ندا آئے گی
یادِ بطحا جو مدینے کو چلی جاتی ہے
گنبدِ سبز کو یہ ہاتھ لگا آئے گی
جو بھی دل عشقِ محمدﷺ میں فنا ہو جائے
اس سے پھر صرف درودوں کی صدا آئے گی
جب دل نے آبیاری کو مانگا ذرا خراج
آنکھوں نے بڑھ کے آب رواں کا دیا خراج
حسن و مہک چمن میں سجانے کے واسطے
گل سے مگس نے خونِ جگر کا لیا خراج
حصے میں فصل کچھ ہی ملی ہے کسان کو
پہلے زمیندار کے گھر کا کٹا خراج
صحرا میں اک سراب چلاتا رہا مجھے
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام حسین
چلا ہے شان سے کربل، جگر حسینؑ کا ہے
بہت کٹھن ہے مگر یہ سفر حسین کا ہے
تجھے بتاؤں کہ کربل کا فائدہ کیا ہے؟
جو دین زندہ ہے اب ، یہ اثر حسین کا ہے
وہ شاہِ خلد ہیں سردار نوجوانوں کے
خدا سے پیار کا ایسا اجر حسین کا ہے
دار سے کہہ دے یار، آتا ہوں
بار ہا مت پکار، آتا ہوں
آج تُو بھی اداس لگتا ہے
اے دلِ بے قرار، آتا ہوں
آج ساقی ہوں بن پیے مدہوش
عشق کا ہے خمار، آتا ہوں
نعتِ رسول مقبولﷺ
بدلے گی لحد میری چمن زار کی صورت
جس وقت نظر آئے گی سرکار کی صورت
لاریب وہ کملی میں چھپا لیں گے مجھے بھی
دیکھیں گے محمدﷺ جو طلبگار کی صورت
پرواز مدینے کو درودوں کی لڑی ہے
کونجیں سی اڑی جاتی ہیں اک ڈار کی صورت
نعتِ رسول مقبولﷺ
شانِ سرکارؐ بیاں کرنے قلم تک پہنچا
میں تصور میں درِ شاہِ امم تک پہنچا
والہانہ مِرے بوسے لیے رحمت نے وہاں
جب سفر ختم ہوا اور حرم تک پہنچا
رک گیا سدرہ پہ جبریلِؑ امیں بھی جا کر
پھر نہ سرکارؐ کے وہ نقشِ قدم تک پہنچا
چارہ گر جا، صدا نہیں باقی
اب کوئی التجا نہیں باقی
تجھ سے امید بھی نہیں کوئی
تجھ سے کوئی گِلہ نہیں باقی
اب مسرت کسی سخن میں نہیں
درد میں بھی مزا نہیں باقی