نعتِ رسول مقبولﷺ
شانِ سرکارؐ بیاں کرنے قلم تک پہنچا
میں تصور میں درِ شاہِ امم تک پہنچا
والہانہ مِرے بوسے لیے رحمت نے وہاں
جب سفر ختم ہوا اور حرم تک پہنچا
رک گیا سدرہ پہ جبریلِؑ امیں بھی جا کر
پھر نہ سرکارؐ کے وہ نقشِ قدم تک پہنچا
زندگی وردِ نبیﷺ سے ہے اور انشاءاللہ
ہو گی تسبیحِ محمدﷺ، جو عدم تک پہنچا
تیرگی نور سے گھبرا کے چھپی جاتی تھی
نور پھیلا جو عرب سے تو عجم تک پہنچا
مدحِ سرکارﷺ کہاں اور کہاں تیرا قلم
تجھ سا عاصی بھی عطا ان کے کرم تک پہنچا
عطاءالمصطفیٰ
No comments:
Post a Comment