اُس سے بچھڑ کے زیست میں راحت نہیں رہی
خود اپنی ذات سے بھی محبت نہیں رہی
میں نے سُنا ہے آج، مِرے بعد دوستو
اُس بزم میں کسی پہ عنایت نہیں رہی
چھوڑا ہے جب سے تتلیوں کے پیچھے بھاگنا
دن بھر چمن میں رہنے کی عادت نہیں رہی
اُس سے بچھڑ کے زیست میں راحت نہیں رہی
خود اپنی ذات سے بھی محبت نہیں رہی
میں نے سُنا ہے آج، مِرے بعد دوستو
اُس بزم میں کسی پہ عنایت نہیں رہی
چھوڑا ہے جب سے تتلیوں کے پیچھے بھاگنا
دن بھر چمن میں رہنے کی عادت نہیں رہی
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
ہو گیا پیار بے پناہ مجھے
مل گئی تیرے در کی راہ مجھے
خاکِ پائے نبیؐ کے آگے ہیچ
لگ رہے ہیں یہ مہر و ماہ مجھے
خود پسندی عجیب دشمن ہے
مجھ میں رہ کر کرے تباہ مجھے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
حرم کے صحن میں میری بھی شام ہو جائے
تِرےﷺ غلاموں میں میرا بھی نام ہو جائے
درود پڑھتی ہیں آ کر جہاں ہوائیں بھی
میں چاہتا ہوں وہاں پر قیام ہو جائے
سجاؤں محفلِ میلادؐ ایسی اک گھر میں
کہ میرا گھر بھی یہ روشن تمام ہو جائے
کبھی مقتل کو میں سوچوں کبھی زنداں دیکھوں
جانے والے کے لیے خود کو پریشاں دیکھوں
زخم تو زخم ہے بڑھتا ہی چلا جائے گا
کاش ہاتھوں میں تِرے آج نمکداں دیکھوں
پیچھے دیکھوں تو فقط تُو ہی نظر آتا ہے
اپنے آگے تو میں تنہائی کا میداں دیکھوں
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
نیزے کی نوک پر وہ تلاوت حسینؑ کی
تاریخ کیا بھلائے امامت حسین کی
قربان کنبہ کر دیا اسلام کے لیے
مشہور تھی جہاں میں سخاوت حسین کی
دینِ خدا کو کر دیا کس درجہ سر بلند
بھولیں تو کس طرح سے کرامت حسیںن کی