Showing posts with label اعظم شاہد. Show all posts
Showing posts with label اعظم شاہد. Show all posts

Saturday, 12 March 2022

اس سے بچھڑ کے زیست میں راحت نہیں رہی

 اُس سے بچھڑ کے زیست میں راحت نہیں رہی

خود اپنی ذات سے بھی محبت نہیں رہی

میں نے سُنا ہے آج، مِرے بعد دوستو

اُس بزم میں کسی پہ عنایت نہیں رہی

چھوڑا ہے جب سے تتلیوں کے پیچھے بھاگنا

دن بھر چمن میں رہنے کی عادت نہیں رہی

Wednesday, 15 December 2021

ہو گیا پیار بے پناہ مجھے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


ہو گیا پیار بے پناہ مجھے

مل گئی تیرے در کی راہ مجھے

خاکِ پائے نبیؐ کے آگے ہیچ

لگ رہے ہیں یہ مہر و ماہ مجھے

خود پسندی عجیب دشمن ہے

مجھ میں رہ کر کرے تباہ مجھے

Friday, 10 December 2021

حرم کے صحن میں میری بھی شام ہو جائے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


حرم کے صحن میں میری بھی شام ہو جائے

تِرےﷺ غلاموں میں میرا بھی نام ہو جائے

درود پڑھتی ہیں آ کر جہاں ہوائیں بھی

میں چاہتا ہوں وہاں پر قیام ہو جائے

سجاؤں محفلِ میلادؐ ایسی اک گھر میں

کہ میرا گھر بھی یہ روشن تمام ہو جائے

کبھی مقتل کو میں سوچوں کبھی زنداں دیکھوں

 کبھی مقتل کو میں سوچوں کبھی زنداں دیکھوں

جانے والے کے لیے خود کو پریشاں دیکھوں

زخم تو زخم ہے بڑھتا ہی چلا جائے گا

کاش ہاتھوں میں تِرے آج نمکداں دیکھوں

پیچھے دیکھوں تو فقط تُو ہی نظر آتا ہے

اپنے آگے تو میں تنہائی کا میداں دیکھوں

Monday, 13 September 2021

نیزے کی نوک پر وہ تلاوت حسین کی

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


 نیزے کی نوک پر وہ تلاوت حسینؑ کی

تاریخ کیا بھلائے امامت حسین کی

قربان کنبہ کر دیا اسلام کے لیے

مشہور تھی جہاں میں سخاوت حسین کی

دینِ خدا کو کر دیا کس درجہ سر بلند

بھولیں تو کس طرح سے کرامت حسیںن کی