عارفانہ کلام نعتیہ کلام
ہو گیا پیار بے پناہ مجھے
مل گئی تیرے در کی راہ مجھے
خاکِ پائے نبیؐ کے آگے ہیچ
لگ رہے ہیں یہ مہر و ماہ مجھے
خود پسندی عجیب دشمن ہے
مجھ میں رہ کر کرے تباہ مجھے
واسطہ صرف ہے محبت سے
چاہئے کب یہ مال و جاہ مجھے
غم سنانے پہ سننا پڑتے ہیں
تالیاں اور واہ واہ مجھے
لائقٍ بزم ہی نہ تھے اعظم
جن سے کرنا پڑا نباہ مجھے
اعظم شاہد
No comments:
Post a Comment