Wednesday, 15 December 2021

کہ یادِ طیبہ نصیب میرا سنوارتی ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


نظر میں جلووں کی جھلملاہٹ پکارتی ہے

کہ یادِ طیبہ نصیب میرا سنوارتی ہے

سب انبیاء کا جواب سن کر، پئے شفاعت

شفیعِ محشرﷺ کو نسلِ آدمؑ پکارتی ہے

ہوائے طیبہ کی چارہ سازی ہر اک بھنور میں

مِرے سفینوں کو ساحلوں پر اتارتی ہے

شبیہِ گنبد کو دیکھ کر آنکھ نم ہوئی ہے

یہی نمی تو ہر ایک منظر نکھارتی ہے

وہ چشمِ مشکل کشا مری آخری تمنا

جو حشر میں امتی کو پُل سے گزارتی ہے


مسعود اختر

No comments:

Post a Comment