عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
عشقِ سرکارؐ ہستی کا عرفاں ٹھہرا
شُکر صد شُکر اُسی ذات پہ ایقاں ٹھہرا
اس لیے زیست کی دُشواری ہوئی ہے آساں
آسرا میرا حضورﷺ آپ کا داماں ٹھہرا
چاند بن کر وہ چمکتا ہے مِری راتوں میں
یادِ آقاﷺ میں جو آنسو سرِ مژگاں ٹھہرا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
عشقِ سرکارؐ ہستی کا عرفاں ٹھہرا
شُکر صد شُکر اُسی ذات پہ ایقاں ٹھہرا
اس لیے زیست کی دُشواری ہوئی ہے آساں
آسرا میرا حضورﷺ آپ کا داماں ٹھہرا
چاند بن کر وہ چمکتا ہے مِری راتوں میں
یادِ آقاﷺ میں جو آنسو سرِ مژگاں ٹھہرا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
قسم خُدا کی بہ لُطف و کمال برسا ہے
جہاں بھی نُورِ شہِؐ خُوش خصال برسا ہے
گُلوں میں رنگ و مہک یوں ہی تو نہیں آئے
چمن میں آپﷺ کا حُسن و جمال برسا ہے
درود پڑھتے ہوئے اُنؐ کا ذکر کرتے ہوئے
ہر ایک دل پہ کرم بے مثال برسا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نعت کہتا ہوں پریشانی نہیں ہوتی ہے
اب مجھے بے سروسامانی نہیں ہوتی ہے
قیس کے دشت سے ہے شان جدا طیبہ کی
اس جگہ چاک گریبانی نہیں ہوتی ہے
کارِ دُشوار ہے، پر صل علٰی کہنے سے
کسی مصرعے میں پریشانی نہیں ہوتی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
رہتے نہیں اوروں کے کبھی رحم و کرم پر
جو لوگ بھی چلتے ہیں تیرےﷺ نقش قدم پر
سوچا ہی تھا اوصاف رقم کرتا ہوں تیرےﷺ
اُترے ہیں ستارے میرے خُوش بخت قلم پر
ہر خطے نے پائی ہے نمو تیرے کرم سے
برسی ہے گھٹا ایسی عرب اور عجم پر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نعت کا آپﷺ جسے اذن شہاؐ دیتے ہیں
تیرگی اس کے مقدر سے مٹا دیتے ہیں
راہِ طیبہ پہ جنوں رُکنے کہاں دیتا ہے
آبلے، شوقِ سفر اور بڑھا دیتے ہیں
کٹ تو سکتا ہے رہِ حق سے نہیں ہٹ سکتا
اپنے رستے پہ جسے آپﷺ لگا دیتے ہیں