Showing posts with label نعیم صدیقی. Show all posts
Showing posts with label نعیم صدیقی. Show all posts

Sunday, 30 July 2023

ہم گنہگار شیدائیوں کی طرف اک نظر سرور دو جہاں

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام التماس

 

ہم گنہ گار شیدائیوں کی طرف اک نظر سرورِ دو جہاںؐ دیکھیے

آفتیں دیکھیے، مشکلیں دیکھیے، ابتلا دیکھیے، امتحاں دیکھیے

پھول روندے ہوئے، غنچے مسلے ہوئے، شاخیں ٹوٹی ہوئیں، پتّے بکھرے ہوئے

تھی دعا آپﷺ کی جس کی بادِ صبا، آج اپنا وہی گلستاں دیکھیے

کیسے دوزخ کی لو آج چلنے لگی، سوئے کشمیر جنت فشاں دیکھیے

دیووں بھوتوں کے قبضے میں ہے آج کل حسن فطرت کا باغ جناں دیکھیے

Monday, 20 March 2023

میرے قفس میں پڑنے پر کلیوں نے چٹکنا چھوڑ دیا

 میرے قفس میں پڑنے پر کلیوں نے چٹکنا چھوڑ دیا 

رنگوں نے نکھرنا چھوڑ دیا خوشبو نے مہکنا چھوڑ دیا 

گلشن کی جنوں انگیز فضا کیا ویسی جنوں انگیز نہیں 

بلبل نے بغاوت کی لے میں کیا اب سے چہکنا چھوڑ دیا 

ظلمت کے خداؤ کھل کے کہو کیا نور نے گھٹنے ٹیک دئے 

سورج نے چمکنا چھوڑ دیا تاروں نے چھٹکنا چھوڑ دیا 

Friday, 3 March 2023

تو رسول حق تو قبول حق ترا تذکرہ ہے فلک فلک

عارفانہ کلام، حمد، نعت، منقبت


تُو رسولﷺ حق تُو قبول حق تِراﷺ تذکرہ ہے فلک فلک

تُو ہے مصطفیٰؐ تُو ہے مجتبیٰ تِرا نعت خواں ہے فلک فلک

تِرے سوزوسازِ فراق سے رہی ساری رات بہت کسک

سرِ شام سے دمِ صبح تک نہ لگی پلک سے ذرا پلک

نہ زمیں میری قرار گہہ نہ فلک ہی منزلِ شوق ہے

بڑی دیر تک ہے سفر مِرا تِری یاد سے تِری یاد تک

Friday, 25 February 2022

اس رخ پہ پھر گلاب سے کھلنے لگے تو ہیں

 اس رخ پہ پھر گلاب سے کھلنے لگے تو ہیں

اے چشمِ اشتیاق! تِرے دن پھرے تو ہیں

کچھ اہتمامِ رونقِ مے خانہ ہے ضرور

ٹھنڈی ہوا چلی تو ہے بادل گھرے تو ہیں

لو اب تو آئی منزل جاناں سے بوئے خوش

کچھ ٹھوکریں لگی تو ہیں کانٹے چبھے تو ہیں

Sunday, 21 November 2021

مجھ کو طلب کیا گیا سرکار آ گیا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


مجھ کو طلب کیا گیا، سرکارﷺ آ گیا

شرمِ گُنہ لیے، یہ گنہگار آ گیا

پھیلا کے اپنا دامنِ صد چاک اے حضورؐ

درویشِ بے نوا سرِ دربار آ گیا

سوکھی پڑی تھیں کب سے تمنا کی کھیتیاں

گریہ مثالِ ابرِ گہر بار آ گیا

Friday, 13 August 2021

ٹھوکریں کھا کے اک زمانے تک

 ٹھوکریں کھا کے اک زمانے تک

آ گیا تیرے آستانے تک

عمر ساری قفس میں کاٹی ہے

آج پہنچا ہوں آشیانے تک

آہ، یہ اپنا دردِ نامعلوم

جس سے بیگانہ تھے یگانے تک

Monday, 9 August 2021

اک داغ نہاں چمک رہا ہے

 اک داغِ نہاں چمک رہا ہے

اک زخمِ جگر مہک رہا ہے

اک جامِ الم چھلک رہا ہے

اک شعلۂ غم بھڑک رہا ہے

ہر موجِ ہوا کی سانس رکتی

ہر ذرے کا دل دھڑک رہا ہے

Saturday, 7 August 2021

اس بارگاہ ناز کو منزل بنا کے چل

 اس بارگاہِ ناز کو منزل بنا کے چل

آنکھوں میں ان کا جلوۂ رنگیں بسا کے چل

ہر پھول آستیں میں ہے کانٹا لیے ہوئے

اس باغِ پُر بہار میں دامن بچا کے چل

اس دیس میں خودی پہ ہے اظہار ناروا

گر سر کٹا سکے تو یہاں سر اُٹھا کے چل

Friday, 6 August 2021

اے عشق جنوں پرور پھر سوئے حرا لے چل

 اے عشقِ جنوں پرور پھر سُوئے حرا لے چل

اس خاکِ پریشاں کے ذروں کو اُڑا لے چل

کشتی مِری آسوں کی اے سیلِ بلا لے چل

پتوار نہیں اس کی، موجوں پہ بہا لے چل

حالات کے قیدی کو، اے سوزِ دعا لے چل

از بہرِ خدا لے چل، تا شہرِ ہدیٰ لے چل

Monday, 2 August 2021

یہ دنیا کس کی دنیا ہے

 یہ دنیا کس کی دنیا ہے


تاریخ نے پوچھا، اے لوگو

یہ دنیا کس کی دنیا ہے؟

شاہی نے کہا؛ یہ میری ہے

اور دنیا نے یہ مان لیا

پھر تخت بچھے ایوان سجے

گھڑیال بجے، دربار لگے

Wednesday, 28 July 2021

تیری ذات پاک عظیم ہے تو میری خطاؤں کو بخش دے

عارفانہ کلام حمدیہ کلام


تیری ذاتِ پاک عظیم ہے، تُو میری خطاؤں کو بخش دے

تُو غفور ہے، تُو رحیم ہے، تو میری خطاؤں کو بخش دے

تیری کائنات کی وسعتوں میں میں ایک ذرۂ بے نشاں

میری لغزشوں کا علیم ہے، تو میری خطاؤں کو بخش دے

میں بُھلا کے تیرے کلام کو، فقط ابتلائے گناہ رہا

تیری مِلک خلدِ نعیم ہے، تو میری خطاؤں کو بخش دے