Saturday, 7 August 2021

اس بارگاہ ناز کو منزل بنا کے چل

 اس بارگاہِ ناز کو منزل بنا کے چل

آنکھوں میں ان کا جلوۂ رنگیں بسا کے چل

ہر پھول آستیں میں ہے کانٹا لیے ہوئے

اس باغِ پُر بہار میں دامن بچا کے چل

اس دیس میں خودی پہ ہے اظہار ناروا

گر سر کٹا سکے تو یہاں سر اُٹھا کے چل

اک لغزشِ نگاہ میں ہے غارتِ حیات

فتنوں بھری فضا میں نگاہیں جُھکا کے چل

گر حُریت کے گیت ہی گانے کا ہو جنوں

زنجیرِ قید اپنے لیے خود اُٹھا کے چل

پیشِ نظر اگر ہے حقیقت کی جستجو

بت خانۂ خیال کو ٹھوکر لگا کے چل


نعیم صدیقی

No comments:

Post a Comment