جہاں ستارے نہیں دل کے داغ جلتے ہیں
سروں پہ ہم لیے وہ آسماں نکلتے ہیں
مجھے سفر میں نہیں چھوڑتے کبھی تنہا
ملال و رنج مِرے ساتھ ساتھ چلتے ہیں
جہاں پہ آگ لگائی تھی میرے نالوں نے
وہ دشت آج بھی دن بھر دُھواں اُگلتے ہیں
مِرے نصیب میں شاید ذرا قرار نہیں
غمِ حیات کے چشمے سدا اُبلتے ہیں
نئی اُمیدوں کا سُورج وہیں اُبھرتا ہے
خیال و فکر جہاں زاویے بدلتے ہیں
یہ سوچ کر میں جلاتا ہوں روز ایک چراغ
کہ اک چراغ سے لاکھوں چراغ جلتے ہیں
گِلہ زمانے کے ظلم و ستم کا کیا کرنا
ہمارے اپنے ہی سائے ہمیں نِگلتے ہیں
امیر شہر نے سچ پر لگائی ہے قدغن
زبانیں کٹتی ہیں ہر سمت سر اُچھلتے ہیں
کچھ اس طرح سے اُتارا گیا بھنور میں فہیم
تماشا دیکھنے والے بھی ہاتھ ملتے ہیں
محمد فہیم
No comments:
Post a Comment