Saturday, 7 August 2021

جہاں ستارے نہیں دل کے داغ جلتے ہیں

 جہاں ستارے نہیں دل کے داغ جلتے ہیں

سروں پہ ہم لیے وہ آسماں نکلتے ہیں

مجھے سفر میں نہیں چھوڑتے کبھی تنہا

ملال و رنج مِرے ساتھ ساتھ چلتے ہیں

جہاں پہ آگ لگائی تھی میرے نالوں نے

وہ دشت آج بھی دن بھر دُھواں اُگلتے ہیں

مِرے نصیب میں شاید ذرا قرار نہیں

غمِ حیات کے چشمے سدا اُبلتے ہیں

نئی اُمیدوں کا سُورج وہیں اُبھرتا ہے

خیال و فکر جہاں زاویے بدلتے ہیں

یہ سوچ کر میں جلاتا ہوں روز ایک چراغ

کہ اک چراغ سے لاکھوں چراغ جلتے ہیں

گِلہ زمانے کے ظلم و ستم کا کیا کرنا

ہمارے اپنے ہی سائے ہمیں نِگلتے ہیں

امیر شہر نے سچ پر لگائی ہے قدغن

زبانیں کٹتی ہیں ہر سمت سر اُچھلتے ہیں

کچھ اس طرح سے اُتارا گیا بھنور میں فہیم

تماشا دیکھنے والے بھی ہاتھ ملتے ہیں


محمد فہیم

No comments:

Post a Comment