اس لیے بھی وه مجھے دل سے نہیں ملتی ہے
اس کی مشکل مِری مشکل سے نہیں ملتی ہے
وقت تسلیم بھی کرتا ہے نہیں بھی ہم کو
داد ملتی ہے مگر دل سے نہیں ملتی ہے
تُو ابھی ہجر کی بھٹی میں نہیں ٹھیک پکا
تیری تصویر ابھی سِل سے نہیں ملتی ہے
اس لیے بھی وه مجھے دل سے نہیں ملتی ہے
اس کی مشکل مِری مشکل سے نہیں ملتی ہے
وقت تسلیم بھی کرتا ہے نہیں بھی ہم کو
داد ملتی ہے مگر دل سے نہیں ملتی ہے
تُو ابھی ہجر کی بھٹی میں نہیں ٹھیک پکا
تیری تصویر ابھی سِل سے نہیں ملتی ہے
آیت نہیں چھوڑی کوئی منتر نہیں چھوڑا
پر دُکھ کی ہواؤں نے مرا گھر نہیں چھوڑا
میں خُود ہی چلا آیا سرِ دشتِ محبت
یہ سانپ کسی نے میرے اُوپر نہیں چھوڑا
بیٹھا ہوں ہر اک شخص نکالے ہوئے دل سے
اس فون میں آج ایک بھی نمبر نہیں چھوڑا
لگنا بنتا تو نہیں مہر مگر لگتا ہے
مجھ سے انسان کو بھی رات سے ڈر لگتا ہے
اس کو رکھوں گا چُھپا کر میں کتابِ دل میں
وه مجھے مور کا ٹُوٹا ہوا پر لگتا ہے
مِرے جیسوں کو ڈبو دیتی ہے جب بھی چاہے
آپ کی آنکھ پہ دریا کا اثر لگتا ہے
ٹپہ ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/٭تروینی/ترائلے
مجھ کو اس سے کیا مطلب ہے
عاشق سچّے ہوں یا جُھوٹے
میرے پُھول تو بِک جاتے ہیں
مہر فام
دُعائیں دوں گا بچاؤ میں خُشک ہو رہا ہوں
پرندو! مالی بُلاؤ میں خشک ہو رہا ہوں
بڑی تمنا تھی بھرتا ہوا تمہیں دیکھوں
سلوکِ یار کے گھاؤ میں خشک ہو رہا ہوں
اٹھا دیا انہیں کہہ کر کہ اپنی حرص کی خاک
مِری جڑوں سے ہٹاؤ، میں خشک ہو رہا ہوں