Showing posts with label مہر فام. Show all posts
Showing posts with label مہر فام. Show all posts

Friday, 26 April 2024

اس لیے بھی وه مجھے دل سے نہیں ملتی ہے

 اس لیے بھی وه مجھے دل سے نہیں ملتی ہے

اس کی مشکل مِری مشکل سے نہیں ملتی ہے

وقت تسلیم بھی کرتا ہے نہیں بھی ہم کو

داد ملتی ہے مگر دل سے نہیں ملتی ہے

تُو ابھی ہجر کی بھٹی میں نہیں ٹھیک پکا

تیری تصویر ابھی سِل سے نہیں ملتی ہے

Friday, 22 December 2023

آیت نہیں چھوڑی کوئی منتر نہیں چھوڑا

 آیت نہیں چھوڑی کوئی منتر نہیں چھوڑا

پر دُکھ کی ہواؤں نے مرا گھر نہیں چھوڑا

میں خُود ہی چلا آیا سرِ دشتِ محبت

یہ سانپ کسی نے میرے اُوپر نہیں چھوڑا

بیٹھا ہوں ہر اک شخص نکالے ہوئے دل سے

اس فون میں آج ایک بھی نمبر نہیں چھوڑا

Friday, 15 December 2023

لگنا بنتا تو نہیں مہر مگر لگتا ہے

 لگنا بنتا تو نہیں مہر مگر لگتا ہے

مجھ سے انسان کو بھی رات سے ڈر لگتا ہے

اس کو رکھوں گا چُھپا کر میں کتابِ دل میں

وه مجھے مور کا ٹُوٹا ہوا پر لگتا ہے

مِرے جیسوں کو ڈبو دیتی ہے جب بھی چاہے

آپ کی آنکھ پہ دریا کا اثر لگتا ہے

Monday, 11 December 2023

عاشق سچے ہوں یا جھوٹے میرے پھول تو بک جاتے ہیں

 ٹپہ ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/٭تروینی/ترائلے


مجھ کو اس سے کیا مطلب ہے

عاشق سچّے ہوں یا جُھوٹے 

میرے پُھول تو بِک جاتے ہیں


مہر فام

Monday, 13 February 2023

دعائیں دوں گا بچاؤ میں خشک ہو رہا ہوں

 دُعائیں دوں گا بچاؤ میں خُشک ہو رہا ہوں

پرندو! مالی بُلاؤ میں خشک ہو رہا ہوں 

بڑی تمنا تھی بھرتا ہوا تمہیں دیکھوں 

سلوکِ یار کے گھاؤ میں خشک ہو رہا ہوں  

اٹھا دیا انہیں کہہ کر کہ اپنی حرص کی خاک 

مِری جڑوں سے ہٹاؤ، میں خشک ہو رہا ہوں