کیا حُسنِ تعاقب ہے کہ جب تُو نکل آئے
تارے سے کرن، پھول سے خوشبو نکل آئے
کس طرح تِری آنکھ کو تمثیل میں لاؤں
اس سوچ میں بیٹھا تھا کہ آہو نکل آئے
ہے پھولوں کا موسم کہ تِری جنبشِ لب ہے
افشاں ہے سرِ زُلف کہ جگنو نکل آئے
کیا حُسنِ تعاقب ہے کہ جب تُو نکل آئے
تارے سے کرن، پھول سے خوشبو نکل آئے
کس طرح تِری آنکھ کو تمثیل میں لاؤں
اس سوچ میں بیٹھا تھا کہ آہو نکل آئے
ہے پھولوں کا موسم کہ تِری جنبشِ لب ہے
افشاں ہے سرِ زُلف کہ جگنو نکل آئے
اگر وہ پُرسشِ احوال کو آنے لگ جائیں
بے بسی ہم تِرا تہوار منانے لگ جائیں
لوگ اک پل میں وہ تعمیر گرا دیتے ہیں
جس کی بنیاد اٹھانے میں زمانے لگ جائیں
تیرگی ایسی ہے شاخوں پہ گماں ہوتا ہے
خود پرندے ہی نشیمن نہ جلانے لگ جائیں
وہ منصب و مقامِ صدا کون لے گیا
میری صلیب، میری انا کون لے گیا
چہرے تو خیر عکس کے قابل نہیں رہے
لیکن یہ آئینوں سے جِلا کون لے گیا
فانوس جل رہے ہیں جہاں ان سے پوچھنا
وہ طاق میں چراغ مِرا کون لے گیا
شہر کا سارا درد بھی لکھنا
چہرہ چہرہ زرد بھی لکھنا
ویراں ویراں ساری آنکھیں
دامن دامن گرد بھی لکھنا
آوازوں کی گرم رُتوں میں
اپنا لہجہ سرد بھی لکھنا
مجھ پر پڑی نگاہ تو اک شور مچ گیا
یہ کون ہے جو گردشِ دوراں سے بچ گیا
کانٹوں نے اپنی خشک زبانیں نکال دیں
موسم کا سارا خون گلابوں میں رچ گیا
اک میں کہ میرے لب پہ تبسم بھی ناگوار
اک تُو کہ تیری آنکھ میں آنسو بھی جچ گیا
اس بے کفن ضمیر پہ شرمندہ کون ہے
میں سوچتا ہوں شہر میں اب زندہ کون ہے
اس بزمِ کم سواد میں منظر نگارِ زیست
اس وقت تک تو میں رہا، آئندہ کون ہے
کس کی صدا نے آگ کا جادو جگا دیا
نغمہ نواز کون، یہ سازندہ کون ہے