Showing posts with label وفا حجازی. Show all posts
Showing posts with label وفا حجازی. Show all posts

Saturday, 16 October 2021

کیا حسن تعاقب ہے کہ جب تو نکل آئے

 کیا حُسنِ تعاقب ہے کہ جب تُو نکل آئے

تارے سے کرن، پھول سے خوشبو نکل آئے

کس طرح تِری آنکھ کو تمثیل میں لاؤں

اس سوچ میں بیٹھا تھا کہ آہو نکل آئے

ہے پھولوں کا موسم کہ تِری جنبشِ لب ہے

افشاں ہے سرِ زُلف کہ جگنو نکل آئے

Friday, 15 October 2021

اگر وہ پرسش احوال کو آنے لگ جائیں

 اگر وہ پُرسشِ احوال کو آنے لگ جائیں

بے بسی ہم تِرا تہوار منانے لگ جائیں

لوگ اک پل میں وہ تعمیر گرا دیتے ہیں

جس کی بنیاد اٹھانے میں زمانے لگ جائیں

تیرگی ایسی ہے شاخوں پہ گماں ہوتا ہے

خود پرندے ہی نشیمن نہ جلانے لگ جائیں

Wednesday, 13 October 2021

وہ منصب و مقام صدا کون لے گیا

 وہ منصب و مقامِ صدا کون لے گیا

میری صلیب، میری انا کون لے گیا

چہرے تو خیر عکس کے قابل نہیں رہے

لیکن یہ آئینوں سے جِلا کون لے گیا

فانوس جل رہے ہیں جہاں ان سے پوچھنا

وہ طاق میں چراغ مِرا کون لے گیا

Tuesday, 28 September 2021

شہر کا سارا درد بھی لکھنا

 شہر کا سارا درد بھی لکھنا

چہرہ چہرہ زرد بھی لکھنا

ویراں ویراں ساری آنکھیں

دامن دامن گرد بھی لکھنا

آوازوں کی گرم رُتوں میں

اپنا لہجہ سرد بھی لکھنا

Monday, 27 September 2021

مجھ پر پڑی نگاہ تو اک شور مچ گیا

 مجھ پر پڑی نگاہ تو اک شور مچ گیا

یہ کون ہے جو گردشِ دوراں سے بچ گیا

کانٹوں نے اپنی خشک زبانیں نکال دیں

موسم کا سارا خون گلابوں میں رچ گیا

اک میں کہ میرے لب پہ تبسم بھی ناگوار

اک تُو کہ تیری آنکھ میں آنسو بھی جچ گیا

Sunday, 26 September 2021

اس بے کفن ضمیر پہ شرمندہ کون ہے

 اس بے کفن ضمیر پہ شرمندہ کون ہے

میں سوچتا ہوں شہر میں اب زندہ کون ہے

اس بزمِ کم سواد میں منظر نگارِ زیست

اس وقت تک تو میں رہا، آئندہ کون ہے

کس کی صدا نے آگ کا جادو جگا دیا

نغمہ نواز کون، یہ سازندہ کون ہے

Tuesday, 8 September 2020

گزرا جو کربلا میں زمانہ نہ پوچھئے

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ

اربابِ زندگی کا ترانہ نہ پوچھئے
گزرا جو کربلا میں زمانہ نہ پوچھئے
وہ دور صبح، دورِ شبانہ نہ پوچھئے
کیسے لٹا نبیؐ کا گھرانہ نہ پوچھئے   
لمحوں کو راستوں میں سہارے نہیں ملے  
اس رات آسماں کو ستارے نہیں ملے

ترک الفت کی بات یاد نہیں

ترکِ الفت کی بات یاد نہیں
کب لُٹی کائنات، یاد نہیں
اس نے عہد وفا تو باندھا تھا
اور وہ کس کے ساتھ، یاد نہیں 
زلف برہم تھی رخ پہ وقتِ وداع
دن تھا اس دَم کہ رات، یاد نہیں 

Monday, 7 November 2016

فصل جنوں میں زنجیروں کا حلقہ دیکھنے والا تھا

فصلِ جنوں میں زنجیروں کا حلقہ دیکھنے والا تھا
دیوانے جب گرمِ سفر تھے صحرا دیکھنے والا تھا
وہ مٹی کا کچا گھڑا تھا، لے ڈوبا جو مانجھی کو
ورنہ دریا پار کا یارو! میلہ دیکھنے والا تھا
تُو کہ میری خاطر ایک ذرا سا موڑ نہ کاٹ سکا
میں تو روزِ ازل سے تیرا رستہ دیکھنے والا تھا

پچھلے پہر کا سناٹا جب زہر فضا میں گھولے گا

پچھلے پہر کا سناٹا جب زہر فضا میں گھولے گا
کون کسی سے بات کرےگا، کون کسی سے بولے گا
اک نووارد کی آہٹ، پھر من کے تار ہلائے گی
پسِ منظر میں ڈولتا سایہ، آج دریچہ کھولے گا
رات کے راہی کی پلکیں ہیں بھیگی بھیگی شبنم سے
اس حالت میں دن نکلا تو کرنوں کا دل ڈولے گا

Tuesday, 1 November 2016

لے کے پلکوں پہ ستاروں کے الم آتے ہیں

لے کے پلکوں پہ ستاروں کے الم آتے ہیں
آج کل جشن کی صورت تیرے غم آتے ہیں
رہ میں کس کی ملاقات کا سورج ابھرا
قافلے نغمہ بہ لب، ساز بہ دم آتے ہیں
میری آنکھوں میں تو پھیلا ہے بیاباں کا غبار
لوگ کیوں شہر سے بادیدۂ نم آتے ہیں

ایک پتہ سا جو خون میں تر لگتا ہے

ایک پتہ سا جو خون میں تر لگتا ہے
ڈار سے بچھڑی ہوئی کونج کا پر لگتا ہے
پھر ہوا جھومی ہے راہوں میں شجر جھومے ہیں
پھر مجھے آج وہ مصروفِ سفر لگتا ہے
میرے ہونٹوں پہ تبسم بھی گلہ ہو جیسے
آپ کی آنکھ میں آنسو بھی گہر لگتا ہے