وہ منصب و مقامِ صدا کون لے گیا
میری صلیب، میری انا کون لے گیا
چہرے تو خیر عکس کے قابل نہیں رہے
لیکن یہ آئینوں سے جِلا کون لے گیا
فانوس جل رہے ہیں جہاں ان سے پوچھنا
وہ طاق میں چراغ مِرا کون لے گیا
محرابِ آرزو کے دِیے کیسے بجھ گئے
میرے سجود، میری دعا کون لے گیا
یوں آئینوں کو دھوپ میں لے کر چلے ہو تم
لوگو! تمہارا ذہنِ رسا کون لے گیا
اب تک تو تیرے قرب کی مہکار جس میں تھی
وہ شعر، وہ خیال نیا کون لے گیا
اے عہدِ حبس! اپنے توسط سے یہ بتا
وہ نغمگیٗ موجِ ہوا کون لے گیا
اوراقِ زیست جس میں تِرا تذکرہ بھی تھا
مضموں سے اقتباسِ وفا کون لے گیا
وفا حجازی
No comments:
Post a Comment