Wednesday, 13 October 2021

بھٹک رہی ہے عطا خلق بے اماں پھر سے

 بھٹک رہی ہے عطا خلق بے اماں پھر سے

سروں سے کھینچ لیے کس نے سائباں پھر سے

دلوں سے خوف نکلتا نہیں عذابوں کا

زمیں نے اوڑھ لیے سر پر آسماں پھر سے

میں تیری یاد سے نکلا تو اپنی یاد آئی

ابھر رہے ہیں مٹے شہر کے نشاں پھر سے

تِری زباں پہ وہی حرف انجمن آراء

مِری زباں پہ وہی حرف رائیگاں پھر سے

ابھی حجاب سا حائل ہے درمیاں میں عطا

ابھی تو ہونگے لب و حرف رازداں پھر سے


عطاءالحق قاسمی

No comments:

Post a Comment