Wednesday, 13 October 2021

بے رتبہ آنکھیں

 بے رُتبہ آنکھیں


کتنا آساں ہے یہ کہنا

یہ تیری ناکامی صلہ ہے تیرے کرموں کا

اسمِ اعظم سے پہچانے جانے والے

میری نیکی کی سچائی

میری جبیں اور مِرے سجدے

تیرے جہانوں کی گردش میں

ٹھوکریں کھا کر ہانپ رہے ہیں

کون پھلانگ سکا ہے اس کو

میرے خیالوں کی وحشت نے جو دیوار اٹھا رکھی ہے

جس کے ادھر ہے میرے ارادوں

کی اک عاجز دنیا

جس کے اندھے غار کے اندر

زخمی تدبیروں کے سائے رینگ رہے ہیں

جس کے آگے ہے اک اور ہی دنیا

شمسی نظاموں کے جلوؤں سے

روشن دنیا، تیری دنیا

جس کے تلے بے رتبہ آنکھیں

میری آ نکھیں، نادم، بے بس

تیرے کرم کی آس لگائے، کُچلی پڑی ہیں


فیصل ہاشمی

No comments:

Post a Comment