ہماری آنکھیں جو ایک اُداسی کی داستاں ہیں
ہزاروں دُکھ ہیں جو صرف ان پر ہی مہرباں ہیں
یہی نہیں کہ ہمارے ہونٹوں پہ قُفل ہے بس
درونِ سینہ جو خواہشیں ہیں وہ بے زباں ہیں
جدائی دیکھی ہے ہجر جھیلا ہے ہم نے ہنس کر
اب اور کتنے ہمارے جیون میں امتحاں ہیں
ہمارے ہوتے ہوئے بھی ان کو کسی کا دُکھ ہے
ان اُلجھنوں کے ہمارے ہمراہ کارواں ہیں
ہم اپنے سینے میں درد دفنائے جا رہے ہیں
اور اس سفر پر کئی زمانوں سے ہم رواں ہیں
ہماری خواہش ہے ان کے لب پہ کبھی تو آئیں
ہماری غزلیں وگرنہ ویسے تو رائیگاں ہیں
ہم ان کے دُکھ پر تڑپ رہے ہیں اگرچہ کاشف
وہ ہم سے پھر بھی نجانے کیوں اتنے بدگُماں ہیں
کاشف رانا
No comments:
Post a Comment